بیجنگ:چین ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو بہتر مستقبل کے منصوبے کے طور پر دیکھتا ہے، 150سے زائد ممالک اور مختلف بین الاقوامی آرگنائزیشن نے اوبور منصوبے کی تائید و توثیق کی ہے،یہ منصوبہ اشتراکیت اور دو طرفہ ترقی کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کینگ شوانگ نے اپنے معمول کی پریس کانفرنس میں ایک امریکی تھنک ٹینک ایشیا ایسوسی ایشن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو بہتر مستقبل کے منصوبے کے طور پر دیکھتا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ منسلک ممالک اور آرگنائزیشن کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ ہے اس منصوبے کی بدولت اشتراکیت کے ذریعے دو طرفہ ترقی اور مفادات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ150 سے زائد ممالک اور مختلف بین الاقوامی آرگنائزیشن نے اوبور منصوبے کی تائد و توثیق کی ہے۔چین کے دوست ممالک اس منصوبے کو وسعت دینے کی خواہش رکھتے اور مشترکہ طور پر اس کو اشتراکیت اور تعمیرو ترقی کا ایک اعلیٰ نمونہ گردانتے ہیں۔ دوسرے بین الاقوامی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے سمٹ کے دوران چین نے منصوبے کی تعمیری ترقی،پیش رفت اور پراسپیکٹس رپورٹ جاری کی جس پر منسلک ممالک نے اپنے اعتماد اور مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعمیرات اور خیالات کا تبادلہ ہی تعمیرو ترقی کا ضامن ہے۔ جس پر یہ منصوبہ پورا اترتا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایک کھلا منصوبہ ہے جس میں ہر ایک کو شرکت کی کھلی دعوت ہے۔چین کی خواہش ہے کہ منصوبے سے منسلک تمام ممالک کو ایک مضبوط پالیسی کے تحت ضم کر دیا جائے تاکہ وہ منصوبے کی کامیابیوں کو بین الاقوامی طور پر نہ صرف بیان کر سکیں بلکہ منوا سکیں۔
ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ دو طرفہ ترقی کی ایک اعلیٰ مثال ہے، 150سے زائد ممالک اور مختلف بین الاقوامی ادارے منصوبے کی تائید و توثیق کر چکے چینی وزارت خا رجہ



