چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اچھی خبریں صرف عدلیہ سے آ رہی ہیں۔ فوری انصاف کی ہماری ہماری اولین ترجیح ہے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھر کا واحد کفیل جیل میں ہو تو اس کی زوجہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا۔ کیا معاشرے نے کبھی ایسی خواتین اور بچوں کا سوچا ہے؟ چند ماہ خاندان والے ساتھ دیتے ہیں، اس کے بعد کوئی نہیں پوچھتا۔ خواتین کو لوگوں کے گھروں میں کام پر لگایا جاتا ہے۔ گھروں میں کام کے دوران ایسی خواتین پر تشدد بھی ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں بڑے ہونے والے بچے جرائم پیشہ بنتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ججوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل کورٹس میں کام کرنے والے جج میرے چیتے ہیں۔ ماڈل کورٹس کا آغاز کرنے سے پہلے میں نے کہا تھا کہ مجھے چیتے چاہیں۔ عدلیہ میں بہت سے چیتے موجود ہیں لیکن اب ان میں 57 مزید چیتوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ماڈل کورٹس کے جوڈیشل آفیسرز کی جانب سے 5800 مقدمات کو 48 دن میں نمٹانا بڑی کاوش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صنفی تشدد کے حوالے سے 116 عدالتیں قائم کر رہے ہیں جبکہ آئندہ مزید 10 اضلاع ماڈل کورٹس کے دائرہ کار میں شامل ہونگے۔ بچوں پر تشدد کے کیسز نمٹانے کے لیے 2 عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ جولائی کے آخر میں کوئٹہ میں بھی ای کورٹس کا آغاز ہو جائے گا۔


