وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق افواہوں کے پیش نظر ان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروادی۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنماؤں کے ہمراہ چیئرمین سینیٹ سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ ایک آئینی عہدہ ہے، اس عہدے کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس اہم موقع پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اعظم سواتی، سینیٹر مرزا خان آفریدی، احمد خان اور زبیدہ جلال بھی وزیراعلیٰ کے وفد کے ہمراہ موجود تھیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے ان کے صوبوں کے لوگوں میں احساس محرومی میں اضافہ ہوگا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ وہ صادق سنجرانی کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے سے متعلق افواہوں سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بطور چیئرمین سینیٹ بلوچستان کی نمائندگی کو عزت دیں جو فیڈریشن کی پہچان ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کو ان کے عہدے سے ہٹانا کسی کونسلر یا وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے جیسا نہیں ہے، اور یہ مذاق نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مثبت کردار ادا کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کوشش کریں گے کہ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہ لائی جائے کیونکہ وفاقی سطح پر بلوچستان کی بہت کم نمائندگی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کو سیاست سے بالا تر ہوکر فیصلہ لینا چاہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اس معاملے میں مثبت موقف اپنائیں گی۔





