
نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ختمِ نبوت کی عبارت میں تبدیلی کر دی گئی جب کہ ہزاروں کتابیں چھپ گئیں ، کئی ہزار تقسیم بھی ہوگئیں لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سویا رہا۔ کسی ذمہ دار کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی نے نوٹس لیا ۔
پنجاب ٹیکس بک بورڈ نے اپنے وضاحتی بیان میں سارا ملبہ ایک پرائیویٹ پبلشر جی ایف ایچ پر ڈال کر معاملے سے جان چھڑانے کی کوشش بھی کی ، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق کتاب ایک پرائیویٹ پبلشر کی شائع کردہ ہے جو منظور شدہ مسودے کے مطابق نہیں ہے ۔
ریکارڈ مطابق شدہ مسودے کے صفحہ نمبر 5 پر ختمِ نبوت سے متعلق عبارت موجود ہے ، واقعہ کا مقدمہ تھانہ نیوانار کلی میں درج کرلیا گیا، جو جی ایف ایچ پبلشر کے دو مصنفین محمد حسین چوہدری اور مسز اعظمی اعظم کے خلاف درج کیا گیا،مقدمہ 295 سی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے ۔
کتاب کے مسودے میں سنگین غلطی نے کئی سوالوں کو جنم دے دیا ، کتابیں چھپ کر تقسیم ہو گئیں لیکن ذمہ داروں کو خبر کیوں نہ ہوئی ، پنجاب ٹیکس بک بورڈ کے ذمہ دار کیوں سوئے رہے انہیں معاملے کا پتہ کیوں نہ چلا ،کتاب میں تبدیلی ہوئی تو کسی نے چیک کیوں نہ کیا ؟ ، طے شدہ مسودے کے بعد کتاب کی چھپائی کے بعد اسے چیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟



