خود سول نافرمانی کا اعلان کرنے والے حکمران ہمیں سول نافرمانی پر مجبور نہ کریں۔
تاجروں نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب ہونے کا دعویٰ کردیا، انجمن تاجران پاکستان نے حکومت کی معاشی ٹیم پر اُنگلی اٹھادی، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو چور اور لٹیرا قرار دے دیا۔ اجمل بلوچ کہتے ہیں پرویز مشرف دور میں بھی یہی سب کچھ ہوا تھا، وزیر اعظم فکسڈ ٹیکس کا نظام لائیں اور کسی ایم این اے کو وزیر خزانہ بنائیں، دھمکی دی ہے کہ ہڑتال غیر معینہ مدت کیلئے بھی ہوسکتی ہے۔
تاجروں نے 50 ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط اور بجٹ میں نئے ٹیکسز کیخلاف ملک بھر میں ہڑتال کی، کئی شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔
انجمن تاجران پاکستان نے ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیا، حکومت کی معاشی ٹیم پر انگلی اٹھاتے ہوئے وزیراعظم سے فکسڈ ٹیکس نظام لانے اور کسی رکن قومی اسمبلی کو وزیر خزانہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔
صدر مرکزی انجمن تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شٹر ڈاؤن نے ایف بی آر اور حکومت کی معاشی پالیسی مسترد کر دی، کراچی سے خیبر تک ہڑتال معاشی پالیسیوں کیخلاف عوامی ریفرنڈم ہے، حکومت فوری طور پر آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم تبدیل کرے، نئی معاشی ٹیم قابل عمل ٹیکسز پر تاجروں سے مذاکرات کرے۔

وہ بولے کہ موجودہ معاشی ٹیم کی موجودگی میں صنعتیں بند، مارکیٹیں ویران ہورہی ہیں، ٹیکسز کا موجودہ ڈھانچہ ریاست کے ڈھانچے کو کمزور کرے گا، ٹیکسز کے نتیجے میں مہنگائی 25 سے 30 فیصد بڑھ چکی ہے، عوام کی قوت خرید کم ہونے سے مارکیٹیں ویران ہیں، خیبر سے کراچی تک تاجروں نے جھکنے سے انکار کردیا ہے۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ ٹیکس دینا اور ملک کو چلانا چاہتے ہیں، شٹر ڈاؤن کے دن بھی وزیراعظم کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، کسی نام نہاد تاجر تنظیم کیساتھ مذاکرات تسلیم نہیں کریں گے، وزیراعظم خود میز پر بیٹھ کر تاجروں سے مذاکرات کریں، قابل عمل تجاویز طے کریں، ریونیو اکٹھا کرکے دکھائیں گے، حکومت نے مسئلہ حل نہ کیا تو غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی کال دینگے، مجبور ہوں گے کہ دکانوں اور صنعتوں کی چابیاں ڈی چوک پر حکومت کے حوالے کردیں، خود سول نافرمانی کا اعلان کرنے والے حکمران ہمیں سول نافرمانی پر مجبور نہ کریں۔

ONLINE PHOTO
صدر انجمن تاجران کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے رویہ نہ بدلا تو تاجر ٹیکس دینے سے انکار کر دیں گے، جمہوری حکومت کا وقت پورا ہونا چاہئے، تاجر وزیراعظم سے استعفی مانگنے کے حق میں نہیں، کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔
تاجر رہنماء اجمل بلوچ نے ایف بی آر گردی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 95 فیصد حصوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہوا، پرویز مشرف دور میں بھی آئی ایم ایف گردی پر ملک 17 دن بند رہا، جھوٹ بولنے والے کہتے ہیں تاجر شناختی کارڈ کی شرط سے ڈرتے ہیں، وزارت خزانہ، ایف بی آر والے بھاری تنخواہیں لے کر بھی ٹیکس نیٹ نہ بڑھا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر والوں نے ایمنسٹی اسکیم میں اربوں روپے کما لئے، عمران خان چوروں سے نجات دلا دیں، جتنا چاہیں ٹیکس لے لیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کوئی ایم این اے وزیر خزانہ کیوں نہیں؟، آئی ایم ایف ملازمین مسلط کیوں؟، کسی رکن قومی اسمبلی کو ہی وزیر خزانہ بنایا جائے۔ انجمن تاجر نے مطالبات پورے نہ ہونے پر غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔
تاجروں کے مطالبات کیا ہیں؟
انجمن تاجران کی جانب سے حکومت کو پیش کیے گئے مطالبات کے مطابق سیلز انوائسز پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کی شرط ختم ہونی چاہیے، تھوک و پرچون (ڈسٹری بیوٹرز، ریٹیلرز) سے ٹرن اوور پر1.5فیصد کے بجائے خالص منافع پر ٹیکس لیا جائے، پرچون فروش (ریٹیلرز) پر فکسڈ ٹیکس کا نظام لاگو کیا جائے، ٹریڈرز کو ود ہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے۔
ہول سیلرز، ریٹیلرز کوسیلز ٹیکس سے استثنا دے کر مینوفیکچرنگ اور امپورٹ کی سطح سے سیلز ٹیکس کی وصولی کی جائے اور تمام ریجنز سے نئے پرانے موبائل فونز کی امپورٹ عام اجازت دے کر نئے اور پرانے فونز پر ڈیوٹی کی ریسٹرکچرنگ کی جائے۔ ان مطالبات سے صرافہ بازار، کپڑا مارکیٹیوں، کراکری، سٹیشنری، کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے تمام قسم کے کاروباری حضرات نے اتفاق کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی۔



