
آٹومیٹک ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) میں چوری کے دوران ‘عجیب حرکتیں’ کرکے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والا گوجرانوالہ کا شخص پنجاب پولیس کی زیر حراست ہلاک ہوگیا۔
ضلعی پولیس کے ترجمان زیشان رندھاوا نے واٹس ایپ کے ذریعے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین کی حالت اچانک خراب ہوگئی تھی اور وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ اے ٹی ایم چوری میں ملوث شخص حراست کے دوران پاگلوں والی حرکتیں کر رہا تھا، اس کی حالت سنگین ہونے پر اسے شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی لاش کو قانونی چارہ جوئی کے بعد سرد خانے منتقل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پتہ لگے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاملے پر تحقیقات کے لیے ڈی پی او عمر فاروق سلامت نے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک شخص کو فیصل آباد میں ایک اے ٹی ایم کو توڑنے کے بعد اس میں سے کارڈ چوری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
تاہم اسی دوران اس شخص نے بوتھ کے کنارے پر لگے کیمرے اور اے ٹی ایم مشین میں نصب کیمرے کو زبان بھی چڑائی تھی۔
بعد ازاں جمعہ کو یہ شخص رحیم یار خان میں شاہی روڈ پر حبیب بینک لمیٹڈ کے اے ٹی ایم بوتھ میں داخل ہوا اور جب وہ مشین کے بیرونی حصے کو توڑنے میں مصروف تھا تب ہی اسے دیگر صارفین کی جانب سے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔
اس حوالے سے پولیس ترجمان نے بتایا تھا کہ چور کی شناخت صلاح الدین ایوبی کے نام سے ہوئی اور وہ گوجرانوالہ کے ضلع کامونکے کا رہائشی ہے۔
ذیشان رندھاوا نے بتایا کہ ملزم نے ماضی میں گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، فیصل آباد اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں متعدد اے ٹی ایم توڑے اور وہ ہر واردات کے بعد طویل عرصے تک روپوش رہتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کو 3 مرتبہ پہلے بھی گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں خود کو گونگے کے طور پر ظاہر کرنے پر اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ ‘گزشتہ روز جب لوگوں نے صلاح الدین ایوبی کو پولیس کے حوالے کیا تو ابتدائی طور پر یہ تاثر ڈالا گیا کہ وہ بولنے سے محروم ہے لیکن بعد ازاں تفتیش کاروں کے سامنے اس نے بیان دیا’۔
واضح رہے کہ پولیس نے ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 411، 427، 454 اور 380 کے تحت مقدمہ درج کرکھا تھا۔




