افغانستان سے جانے والے آخری جہاز میں آخری شخص اشرف غنی ہو گا

افغانستان سے جانے والے آخری جہاز میں آخری شخص اشرف غنی ہو گا
 امریکہ افغان مذاکرات حتمی راؤنڈ میں داخل ہو چکے ہیں مگر اس معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے۔موجودہ صورت حال میں امریکہ میں دو گرپ بن چکے ہیں ایک گروپ جس کی ترجمانی ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں وہ ہر صورت میں افغانستان سے انخلا چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروپ جو کہ سی آئی اے یا پینٹا گون ہے یا پھر دوسرے الفظ میں مائیک پوپمپیو ہے تو وہ ابھی افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان میں کچھ نا کچھ گیم چلاتے بھی رہتے ہیں۔طالبان امریکہ مذاکرات میں سب سے اہم کردار پاکستان نے ادا کیا اگرچہ دیگر ممالک نے بھی اچھااور بہترین کردار ادا کیاہے مگر اس کا زیادہ کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔مگر اس ساری صورت حال میں جب امن قائم ہو جاتا ہے اور امریکی افواج یہاں سے چلی جاتی ہیں تو تب یہاں کے موجودہ صدر اشرف غنی کا کیا بنے گا کیونکہ امریکہ نے مذاکرات تو اس کے دشمن سے کیے تھے۔

لہٰذا اشرف غنی کے پاس بھی اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ افغانستان چھوڑ کر امریکہ چلا جائے۔اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں جنرل(ر)نعیم خالد لودھی نے کہا کہ اشرف غنی سب سے بڑا لوزر ہے۔امریکہ کو تو جو نقصان ہوا ہے سو ہوا ہے مگر اس کے بعد جس شخص کو زیادہ نقصان پہنچا ہے وہ اشرف غنی ہے۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی افواج چلی جاتی ہیں تو وہ الیکشن ہار جائے گااورا س کے بعد طالبان اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ووہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔لہٰذا یہی وجہ ہے کہ اشرف غنی کی شدید خواہش ہے کہ افغانستان کے الیکشن امریکہ کی موجودگی میں ہوں اور وہ یہاں سے کبھی نہ جائیں،بصورت دیگر افغانستان سے امریکہ کے لیے جانے والے آخری جہاز میں آخری شخص اشرف غنی ہی ہوں گے۔