نواز شریف کو لاحق ’آئی ٹی پی‘ کیا ہے؟

نواز شریف کو لاحق ’آئی ٹی پی‘ کیا ہے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو لاحق آئی ٹی پی ’Immune thrombocytopenic purpura ‘ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مدافعتی نظام خون میں موجود پلیٹلیٹس کی تعداد کو کم کر دیتا ہے۔

خون میں پلیٹلیٹس کی موجودگی جسم میں خون کی روانی کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، لیکن جن لوگوں کو یہ بیماری لاحق ہوجائے اُن کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد کافی حد تک کم ہوجاتی ہے جو جسم میں خون کی روانی متاثر کرتی ہے۔

پلیٹلیٹس کیا ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق پلیٹلیٹس انسانی جسم کے خون میں موجود پلیٹلیٹس کی شکل کے چھوٹے چھوٹے ذرات (خلیات) ہوتے ہیں، ان کے گرد جھلی بنی ہوتی ہے۔ پلیٹلیٹس کا کام انسانی خون کے جسم سے انخلا کو روکنا ہے۔

یہ خلیات یعنی پلیٹلیٹس خون کے ساتھ ہی گردش کرتے رہتے ہیں اور جسم کے کسی بھی حصے میں زخم ہونے یا چوٹ لگنے کی صورت میں وہاں جمع ہوکر جھلی بنا لیتے ہیں اور خون کو جسم سے باہر آنے سے روکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صحت مند انسانی جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے اور اس سے ہڈی کا گودا ضرورت کے مطابق خود بخود بنتا رہتا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کسی انسان میں پلیٹلیٹس کی تعداد 25 ہزار یا کبھی کبھار 10 ہزار تک بھی چلی جائے تو پریشانی کی بات نہیں ہوتی۔

تاہم اگر ان کی تعداد 10 ہزار سے بھی کم ہونے لگے تو انسان کے جسم سے خون کے انخلا کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور ناک سے بھی خون بہنا شروع ہو سکتا ہے۔

پلیٹلیٹس کی کمی بعض انفیکشنز پھیلنے، گردوں کی بیماری، جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی اور غلط دوائیوں کے ری ایکشن کا سبب بھی بن سکتی ہے اور انسان میں کافی کمزوری بھی ہونے لگتی ہے۔

یہ بیماری کس عمر میں ہوسکتی ہے؟

یہ بیماری مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین کو لاحق ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی پی نامی یہ بیماری بچوں میں بھی عام ہے جبکہ نوجوان بھی اکثر اس بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

آئی ٹی پی کا علاج:

پروفیسر طاہر شمسی کے مطابق نواز شریف کی بیماری کا علاج اسٹیرائیڈ اور آئی وی آئی جی انجیکشن کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات ملنے کے بعد مریض کے پلیٹیلیٹس بننا شروع ہو جاتے ہیں، آئی وی آئی جی انجیکشن ملنے کے 10 سے 12 روز بعد مریض کے پلیٹیلیٹس تقریباً نارمل ہو جاتے ہیں۔

بشکریہ:جنگ