30نومبر تک کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ نہ آیا تو ہم اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے:سراج الحق

کوٹلی،سہنسہ،گل پور:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے،

حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ پوری قوم کو متحد کر کے شہ رگ کو آزاد کرواتی بدقسمتی سے حکومت اورسیاسی جماعتیں کشمیر کے لیے مطلوبہ کردار ادا نہ کرسکیں پاکستان کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے کشمیر کی آزادی کے لیے جلسہ تک نہ کیا ،

30نومبر تک کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ نہ دیا تو ہم اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ،نریندرمودی کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی تحریک ختم نہ ہوسکی،

عالمی برادری اور اقوام متحدہ اپنی ذمہ داری ادا کرے پاکستان کے 22کروڑ عوام اور جماعت اسلامی صبح آزادی تک کشمیریوں کے شانہ بشانہ رہیں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے کشمیربچائو مارچ کے موقع پر گل سہنسہ،پوٹھہ،گل پور اور کوٹلی میں استقبالی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان،حریت راہنما غلام محمد صفی،راجہ جہانگیر خان،جے آئی یوتھ آزادکشمیر کے صدر نثار احمد شائق امیر جماعت اسلامی ضلع کوٹلی حبیب الرحمان آفاقی،ناظم جموں وکشمیر اسلامی جمعیت طلبہ راجہ مسرور ظفر،زاہد الحسن چودھری،عبدالحمید چوہدری،گل نواز رحمان،ملک محمد اسلم،ماسٹر عارف ،انعام الحق آفاقی،سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا ،

سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران گزشتہ حکمرانوں کا ہی تسلسل ہیں پرویز مشرف نے 450کلو میٹر تک باڑ لگوائی ، دیکھو اور انتظار کروں کی پالیسی کی وجہ سے 80دن سے80لاکھ عوام محصور ہیں ، قوم مزید انتظار نہیں کرسکتی قوم خود فیصلہ کرے گی حکمران اسلام آباد میں تنہا رہ جائیں گے انہیں گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیں گے پاکستان کے عوام سید علی گیلانی،یاسین ملک،شبیر شاہ، آسیہ اندرابی کی قیادت پر لبیک کہتے ہوئے ان کی عملی مدد کریں گے،

کشمیری پاکستان کی لڑائی سری نگر میں لڑرہے اور پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستان سے محبت کرتے ہیں ،صدارتی راج،گورنر راج اور 15لاکھ انڈین آرمی کا مقابلہ کررہے ہیں جیلیں اور قبرستان آباد ہورہے ہیں 18ہزار نوجوان گرفتار کیے گے ہیں ،27سال سے کشمیری جیلوں میں بند ہیں جو کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں ،

حکمران عملی اقدامات کے بجائے فتوے دے رہے ہیںاگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے توعوام تمہیں گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیںگے ،کشمیر ی عوام شہداء اور غازیوں کی اولاد ہیں ،سرسبز پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی وجہ سے ہے ،کشمیریوں کی وجہ سے پاکستان زندہ ہے اپنی شہ رگ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے 72سالوں سے کشمیری قوم کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے ہندوستان کے حکمرانوں کو ریڈ کارپٹ استقبال کیا جا تارہا مقبوضہ کشمیر میں قیامت صغریٰ ہے 80دنوں سے کشمیری کھلی جیل میں بند ہیں سانس لینا مشکل ہو چکا ہے ،

کشمیر دنیا کا فلش پوائنٹ بن چکا پاکستان کا میڈیا کشمیر کے بارے میں مکمل خاموش ہو چکا ہے ،موجود حکومت قوم کی یکجہتی اور وحدت کو سبوتاج کیا انڈیا کے مقابلے فولادی دیوار بنتے حکمرانوں نے یکجہتی کو تار تار کیا ،انڈین قیادت پاکستان کے خلاف ایک لیکن ہماری قیادت آپس میں دست و گریبان ہیں اقوام متحدہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں ہے سلامتی کونسل میں مسلم ملک کا کوئی مستقل رکن نہیں ہے ،

انہوں نے کہاکہ جانوروں اور پرندوں کے حقوق پر بات ہوسکتی ہے لیکن مسلمانوں پر ہونے والے مظالم ان کو نظر نہی آتے ،اقوام متحدہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں اپنی قراردادوں پر عمل کرسکتی ہے لیکن کشمیر اور فلسطین پر اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہے ، کراچی سے چترال تک پاکستان کے عوام اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے تیار ہیں لیکن اسلام آباد کا شہزادہ جانے کے تیار نہیں ،ٹیپو سلطان بننے کے لیے جہاد کرنا ہو گا تلوار اٹھانا ہو گی ،ایئر کنڈیشن میں بیٹھ کر کوئی ٹیپو سلطان نہیں بن سکتا ،

انہوں نے کہاکہ حالات کی ذمہ داری آپ پر ہے ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے 80لاکھ کشمیریوں کی موت کے بعد تابوت ان کے لیے بھیجیں گے جماعت اسلامی پاکستان اپنے کشمیر ی بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور پشتیبانی کا حق ادا کریں گے پاکستان کے لوگ بزدل نہیں قیادت کمزور ہاتھوں میں ہیں پاکستان کا ہرنوجوان کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہیں پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ روڈے اٹکائے ہیں ،

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ 30نومبر تک حکومت پاکستان نے کشمیر پر روڈ میپ نہ دیا تو جماعت اسلامی لاکھوں عوام کو ساتھ لے کر سیز فائر لائن توڑے گی ،مقبوضہ کشمیر میںننھے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کرہماری بچیاں توپوں کے آگے برسرپیکار ہیں بیس کیمپ کے عوام اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ،

وزیر اعظم پاکستان نے اپیل کی کہ لائن آف کنٹرول عبور نہ کریں مگر تقریر ہو گئی لیکن 80لاکھ ہمارے بھائی کھلی جیل میں محصور ہیں ،آزادکشمیر کے عوام بے تاب ہیں ،مقبوضہ وادی میں برہان وانی شہید جیسے لاکھوں بیٹوں اور بیٹیوں کا خود پر فرض اورقرض سمجھتے ہیں ،ریاست پاکستان کے پیروجوان آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں 1832سے جدوجہد کررہے ہیں ،پاکستان کے حکمران ،عالمی برادری اور او آئی سی سے کہنا چاہتا ہوں کہ خاموشی کے بجائے کشمیریوں کا تسلیم شدہ حق ان کو دیا جائے ،

امت مسلمہ کے ماتھے کا جھومر کشمیر خون میں نہلایا جارہا ہوں محمد بن قاسم کے منتظر ہیں بتوں کی پوجا کرنے والوں کو میڈل دیے جائیں تو ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی برادری برہان وانی شہید کے راستے پر پی ایچ ڈی سکالرز،ڈاکٹر،انجینئرزآزادی کے لیے اپنے کیئر کو قربان کر چکے ،

ہمیں ریاست پاکستان سے محبت ہے 19جولائی 1947کو ہم نے اپنی منزل پاکستان کوقرار دیا لعل چوک میں کرفیو کے باوجود ہم کیا چاہتے آزادی کے نعرے بلندہو رہے ہیں کشمیر میں لاکھوں عادل ڈار کال کے منتظر ہیں کشمیر کے بیٹوں کو لے کر آگے بڑھیں گے عالمی امن کے ٹھیکیدار ہمارے راستے کی رکاوٹ کیسے بنتے ہیں ،پاکستان کے سپہ سالار اور حکمرانوں سے کہتا ہوں اہل کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اپنے حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ہم سیاسی،اخلاقی ،سفارتی سطح پر جدوجہد کرسکتے ہیں اے کے آر ایف بحال کر دی جائے

بیس کیمپ اپنا حقیقی کرداراور آزادکشمیر کی حکومت کو نمائندہ حکومت تسلیم کریں تا کہ بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار خود ادا کریں 1947میں مودی کے بڑوں کو کلہاڑیوں اور ٹوپی دار بندوقوں سے بھگایا تھا مجاہدین کی بیڑیاں کھول دیں ہم خود ہندوستان سے نمٹ لیں گے انہوں نے کہاکہ چند سو مجاہدین نے 7لاکھ ہندوستانی فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر لیا پاکستان کی جنگ سری نگر،جموں لداخ مظفرآباد میں لڑی جارہی ہے ،دریاوں میں شہداء کا مقدس خون بھی شامل ہے بہنوں کا دوپٹہ بہہ کر آتا ہے ہندوستان نے پانی روکنے کا اعلان کر دیا ہے شہ رگ دبوچ لی حکمران کس کا انتظار کررہے ہیں، اس موقع پر حریت راہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیریوں کی نظریں اہل پاکستان کی طرف ہیں کشمیری پاکستان کی تکمیل بقاء  اور سلامتی کی جنگ لڑرہے ہیں ۔