عدالت اور ججز سے متعلق اپنے ریمارکس غیر مشروط واپس لیتی ہوں، غیرمشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں، پریس کانفرنس کے دوران مجھ سے ٹارگٹڈ سوال کیا گیا، اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا ہفتے کے روز سماعت کا دیگر سائلین کو بھی فائدہ ہو گا، فردوس عاشق اعوان کامعافی نامے میں بیان
اسلام آباد: توہین عدالت کیس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو پھر معافی نہ ملی اور 14 نومبر کو دوبارہ طلب کرلیا۔ عدالت نے وفاقی وزیر غلام سرور کو بھی نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا۔ پیر کو اسلام آباد ہائیکوٹ میں فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ فردوس عاشق اعوان نے تین صفحات پر مشتمل معافی نامہ عدالت میں جمع کرایا۔فردوس عاشق اعوان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں ایک بار پھر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا گیاہے کہ عدالت اور ججز سے متعلق 29 اکتوبر کے اپنے ریمارکس غیر مشروط طور پر واپس لیتی ہوں اور غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں۔جواب کے متن میں فردوس عاشق اعوان نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران مجھ سے ٹارگٹڈ سوال کیا گیا، جواب دیتے ہوئے میں نے کہا ہفتے کے دن سماعت کا دیگر سائلین کو بھی فائدہ ہوگا، مزید کہا کہ ہفتے کے دن سماعت سے زیر التوا کیسز میں عام سائلین بھی مستفید ہوسکیں گے۔جواب میں وضاحت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس صرف نواز شریف کے زیر التوا کیس سے متعلق نہیں تھی، پریس کانفرنس نواز شریف کے فئیر ٹرائل کا حق متاثر کرنے کے لیے بھی نہیں تھی، میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عدالت نواز شریف کو خصوصی ریلیف دے رہی ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو غیر مشروط معافی مانگتی ہوں۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی اور اس موقع پر فردوس عاشق اعوان بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔وفاقی وزیر غلام سرور کے خلاف درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے موقف اپنایا کہ ایک طرف حکومت ڈیل سے انکاری ہے اور دوسری جانب وفاقی وزیر ڈیل کا کہہ رہے ہیں، اس بیان سے وفاقی وزیر نے عدالت میں زیرسماعت کیس پراثرانداز ہونیکی کوشش کی۔دورانِ سماعت عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو روسٹرم پر طلب کرکے استفسار کیا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، آپ بتائیں کہ وزیر نے ایسی کوئی بات کی یا نہیں؟ اس پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی وزیر نے ایسا کہا ہے تو یہ بات وزیراعظم کے نوٹس میں لائی جائیگی۔بعد ازاں عدالت نے غلام سرور خان کے کیس میں پروگرام کا ٹرانسکرپٹ منگوا کر عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے وفاقی وزیر کو نوٹس جاری کردیا اور کیس کی مزید سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت بھی اسی روز ہو گی۔
توہین عدالت کیس،فردوس عاشق کو معافی نہ ملی، غلام سرور کو بھی نوٹس جاری،14 نومبر کو دوبارہ طلب




