لاہور ہائی کورٹ نے حکومتی حکومتی شرط مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ۔ سابق وزیراعظم 7 ارب روپے کے بونڈ کی شرط کے بغیر 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں۔
عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے 7 ارب روپے کے بونڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے حکم میں کہا کہ نواز شریف کو علاج کی خاطر 4 ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں دوسری مرتبہ بیان حلفی جمع کروادی جس میں انہوں نے نواز شریف کی واپسی کو یقینی بنانے کی بات کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ‘میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے بھائی نواز شریف کو 4 ہفتوں میں یا صحت کے حوالے سے ڈاکٹروں کی اجازت اور پاکستان واپسی کے لیے فٹ ہونے پر واپسی یقینی بناؤں گا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ ڈاکٹروں کی رپورٹس کو سفارت خانے کے ذریعے عدالت کے رجسٹرار تک پہنچاؤں گا’۔
شہباز شریف نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ ‘اگر کسی موقع پر وفاقی حکومت کو پتہ چلے کہ نواز شریف صحت یابی کے باوجود بیرون ملک مقیم ہیں تو پاکستان کے ہائی کمیشن کے نمائندے کو تصدیق کے لیے ڈاکٹروں سے ملنے یا ان کی صحت کے حوالے سے تصدیق کرنے کی اجازت ہوگی’۔
نواز شریف نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ ‘میں اپنے ماضی کے ریکارڈ کے مطابق 4 ہفتوں کے اندر یا جیسے ہی مجھے صحت یاب قرار دیا جائے اور میرے ڈاکٹروں کی جانب سے پاکستان آنے کے لیے فٹ قرار دیتے ہی پاکستان واپس آنے کی یقین دہانی کراتا ہوں’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں اپنے بھائی شہباز شریف کی جانب سے دیے گئے بیان حلفی پر عمل کرنے کا بھی پابند ہوں’۔

شہباز شریف نے وکلا اور قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔




