
اسلام آباد(ناصر کاظمی)حکومت کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیس میں عدالتی فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست صدر ،وزیراعظم ،سیکرٹری دفاع اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے ،آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کی پیروی کے لیے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کو ایک دفعہ پھر وزارت سے استعفیٰ دینا ہوگا ،سپریم کورٹ رولز کے مطابق نظر ثانی کیس میں وہ وکیل پیش ہوگا جو مرکزی مقدمے میں کسی فریق کی جانب سے پیش ہوا ،یادرہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس میں بیرسٹرفروغ نسیم نے بطور وزیر قانون استعفیٰ دے کر جنرل باجوہ کی پیروی کی تھی ،جبکہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے لائسنس معطلی پر سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ پہلے پاکستان بار کونسل سے معاملات حل کریں ورنہ اپنا ایسوسی ایٹ وکیل ساتھ لائیں تاہم پاکستان بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کردیا جس پر وہ عدالت میں پیش ہوئے ۔آرمی چیف کیس کے فیصلے کے بعد بیرسٹرفروغ نسیم نے دوبارہ وزیر قانون کا حلف اٹھایا تھا ۔
بشکریہ:خبریں



