
سپارک، ایچ ڈی ایف اور پناہ کی جانب سے ٹو بيکو انڈسٹری کے گمراہ کن حربوں کے سبب حکومت کی آمدن ميں کمی کے حوالے سے ایک اجلاس کا انعقاد کيا گيا۔ کيمپين فار ٹوبيکو فری کڈز (سی ٹی ایف کے)کے نمائندے ملک عمران نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹو بيکو انڈسٹری نے 2016 سے لے کر 2019 تک قومی خزانے کو 153 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے جس سے ٹيکس کی شرح ميں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارچ 2017 سے لے کر مئ 2019 تک ٹوبيکو انڈسٹری نے 160 ارب سگریٹ بناے۔ ٹو بيکو ٹيکس سٹرکچر ميں تيسرے درجے کے تعارف کے باعث ٹو بيکو انڈسٹری نے اپنے زیادہ بکنے والے برانڈز کی قيمتوں ميں ایڈجسٹمنٹ کی جس کے نتيجے2016 سے ليکر 2019 تک قومی خزانے کو ٹيکس کی مد ميں 85•77 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
مقامی ٹوبيکو کمپنيوں کے سينيٹ اور نيشنل اسمبلی ميں نمائندے موجود ہيں جو کہ وزیراعظم تک کو ٹوبيکو پروڈکٹس پر لاگو کئے جانے والے ٹيکس کے حوالے سے وقتن فوقتن التجا کرتے ہيں اور کوشش کرتے ہيں کہ ٹوبيکو انڈسٹری کے مفاد ميں پاليسياں مرتب کی جائيں۔
ایس پی ڈی سی کے سينئر اکانومسٹ وسيم سليم نے حاليہ مالی معاملات ميں غير ہمواری کے حوالے سے کہا ٹو بيکو پر ٹيکس سے حکومتی آمدن ميں خوشگوار اضافہ ہوگا اور اس ٹيکس سے محکمہ پبلک ہيلتھ کے مقاصد کےحصول ميں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کی سالانہ پيداوار سے متعلق تمباکو انڈسٹری کی انڈر رپورٹنگ کی وجہ سے حکومت کی ٹيکس آمدن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہيں۔ سگریٹ کی غير اعلانيہ پيداوار کی بدولت حکومتی آمدن کو بشمول جی ایس ٹی 37 ارب روپے کا نقصان ہوا اور بغير جی ایس ٹی
کے یہ نقصان 31 ارب روپے بنتا ہے۔ آمدن ميں اس نقصان کا تخمينہ 17-2016 ميں تعين کردہ 93•1 روپے فی سگریٹ ایف ای ڈی ریٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے کيا گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ميں غير قانونی سگریٹ کی تجارت تمباکو انڈسٹری کے دعوے کے برعکس بہت کم ہے۔ پاکستان ميں سگریٹ نوشی کے سالانہ معاشی اخراجات 20•143 ارب روپے ہيں۔
سيشن کے اختتام پر سوال جواب کے دوران تمباکو انڑسٹری کے گمراہ کن حربوں کے حوالے سے خطرناک انکشافات سامنے آئے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو اظہر سلیم نے حکومت سے سگریٹ پر آئندہ بجٹ ميں ٹيکس کو مزید بڑھانے کی درخواست کی




