
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں جام شورو کول پاور کے لیے حکومتی گارنٹی منظور کی گئی، ان دو منصوبوں کے لیے 39 ارب کی حکومتی گارنٹی منظور کی گئی، جس سے 1320 میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکے گی۔ ای سی سی نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل پر سبسڈی 31 دسمبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا اور زور دیا کہ بلوچستان میں زرعی جدید آب پاشی کو فروغ دیا جائے۔ اضافی تمباکو کی پیداوار سیگریٹ کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ کلو گرام اضافی تمباکو سگریٹ کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نان فائلرز کے بینکوں سے رقم نکلوانے پر رعایتی ٹیکس میں توسیع بھی کردیے اور 0.4 رعائیتی ٹیکس میں 31 دسمبر تک توسیع کی گئی۔ برآمدات بڑھانے کے لیے نان ٹریڈیشنل مصنوعات کو فروغ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا اور نان ٹریڈیشنل برآمدات پر بھی دو فی صد ڈیوٹی ڈرابیک دینے کی منظوری دی گئی۔



