کورونا وائرس کی وباکے لوگوں کی معاشرت اور رویوں پر اثرات جاننے کے لئے ملک گیر تحقیق کا آغازدی انیشی ایٹو اسلام آباد، آغا خان یونیورسٹی کراچی اور خیبر میڈیکل کالج یونیورسٹی پشاور کی مشترکہ ٹیم سروے کرے گی

اسلام آباد :پاکستان میں کورونا وائرس کی وباکے لوگوں کی معاشرت اور رویوں پر اثرات جاننے کے لئے ملک گیر تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے۔ دی انیشی ایٹو اسلام آباد، آغا خان یونیورسٹی کراچی اور خیبر میڈیکل کالج یونیورسٹی پشاور کی ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سروے کرے گی جس کا مقصد اس بات کا پتہ لگانا ہے کہ اس وبانے ہماری قوم کی روزمرزہ زندگیوں کو کس طرح متاثر کیا ہے اور کس طرح لوگ اس سے نبرد آزما ہیں۔ دی انیشی ایٹو اسلام آباد کی ڈاکٹر آمنہ خان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی وباسے تقریبا ہر پاکستانی بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثرہوا ہے۔ اس وباکے خاتمہ کے لئے پاکستانی حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جیسا کہ سماجی لاک ڈائون کا اطلاق، جس کے لوگوں کی زندگیوں پر اثرات ہیں یہ تحقیقاتی ٹیم ٹیلیفونک سروے کے ذریعے 6 ہزار لوگوں سے معلومات حاصل کر ے گی کہ کورونا وائرس کی وبانے ان کی صحت اور خوشحالی کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ آغاز خان یونیورسٹی کراچی کی ڈاکٹر رومائنہ اقبال نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ وبااور سماجی لاک ڈائون ایک کڑا وقت ہے۔ ہم عملی طورپر لوگوں کی نفسیاتی صحت سے متعلق پریشان ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات پر بھی تحقیق کرے گی کہ سماجی لاک ڈان نے کس طرح لوگوں کے روزگار اور مالی حالات کو بدل دیا ہے۔ پاکستان نے عوام کی صحت کی بہتری کے لئے کام کرنے والے فلاحی ادارے دی انیشی ایٹو اسلا م آبادکی ڈائریکٹر ڈاکٹر آمنہ خان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا پتہ لگانا اہم ہے کہ کورونا وباسے بچنے کے لئے جو پیغامات دیئے جا رہے ہیں کیا وہ عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں اور کیا اس سے کوئی خاطر خواہ اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی اور غیر ضروری خریداری بڑھی ہے اور دوسری طرف اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں عدم تحفظ پیداہوا ہے۔ بیان کے مطابق یہ تحقیق پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل، وزارت قومی صحت و خدمات سے منظور شدہ ہے۔ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے حقائق کو سوشل میڈیا اور تحقیقی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا اور باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے ڈاکٹر ذوہیب خان نے کہا کہ وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج کو جتنی جلدی ممکن ہو متعلقہ اداروں، میڈیا اور عام لوگوں کے سامنے لائیں۔ اس تحقیق سے متعلقہ اداروں کو اس بات میں مدد ملے گی کہ وہ حالات کے مطابق عوامی صحت سے متعلق پیغامات میں مطلوبہ تبدیلی کرکے عوام میں موجود کسی غلط فہمی کو ختم کر سکے اور اس وباکے بارے میں صحیح شعور پیدا کر سکیں، اس کے علاوہ اس کے نتائج اس وباکے غریب لوگوں پر ہونے والے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لئے حکومت پاکستان کے شروع کئے گئے نئے قدم ” احساس” پروگرام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کریں گے۔