
پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ کراچی میں لیڈنگ سے چند سیکنڈ پہلے حادثے کا شکار ہوگیا جس سے 96 افراد ہلاک ہو گئے ،طیارہ لینڈنگ سے قبل رہائشی علاقے پر گرا جس سے گیارہ گھروں اور گلی میں کھڑی کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم رہائشی علاقے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے7 ارکان سوار تھے 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ 96 افراد اس حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ عینی شاہدین کے مطابق طیارے کے دونوں انجنز میں آ لگی تھی اس سے قبل طیارے کا لینڈنگ گئیر خراب ہو چکا تھا اور گرنے سے قبل اس سے کئی پرندے بھی ٹکرائے تھے۔
بدقسمت طیارے نے 1.05 پر لاہور سے کراچی کے لئے اڑان بھری اور 2;37 پر لیڈنگ سے چند سیکنڈ پہلے رہائشی علاقے پر گر کر تباہ ہوگیا۔
محکمہ صحت کے مطابق 66 لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جن میں 20 خواتین، 43 مرد اور 3 بچے شامل ہیں۔ تمام لاشوں کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا اور 16 لاشوں کی شناخت کی گئی جب کہ 50 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔محکمہ صحت نے بتایا کہ سول اسپتال میں 31 لاشیں منتقل کی گئی ہیں جن میں 6 خواتین اور 25 مرد ہیں۔سول اسپتال میں صرف 3 میتوں کی شناخت ہوئی جب کہ 28 لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے سول اور جناح اسپتال سے اب لاشوں کو ایدھی سردخانہ سہراب گوٹھ اور ایف ٹی سی چھیپا سردخانہ منتقل کردیا گیا ہے۔ تمام لاشوں کے ڈی این اے کے لیے نمونے لینے کے بعد منتقل کیا گیا جب کہ اب تک صرف 19 لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) نے بھی جائے حادثہ سے 96 لاشیں نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 2 مسافر محفوظ رہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقے کے 25 مکانات کوکلیئرکردیا گیا ہے اور متاثرہ مکانات کے رہائشی مختلف مقامات پررہائش پذیر ہیں۔
نادرا ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ ترافراد کی لاشیں جھلسی ہوئی ہیں جوناقابل شناخت ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 3 جاں بحق افراد کے موقع پرانگوٹھوں کے نشان لیے گئے جس میں سے 2 لاشوں کی نادرا نے شناخت کرلی ہے۔
دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ لاشوں کی شناخت کے لیے ٹیم میں تین فوکل پرسن تعینات کیے ہیں تاہم جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل ڈی این اے کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی جنید احمد ٹیم کی سربراہی کریں گے، ڈی ایس پی رستم سول اسپتال میں تعینات ہوں گے جب کہ جناح اسپتال میں ڈی ایس پی آفتاب عالم ڈیسک کی نگرانی کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر کورنگی کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی جناح گارڈن کے بلاک اے اورآر میں گراجس سے 19گھروں کو نقصان پہنچا ان میں 2 گھر مکمل طور پرجل گئے۔ طیارہ حادثے میں کالونی کا کوئی رہائشی جاں بحق نہیں ہوا اور صرف تین خواتین زخمی ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ گھروں کے 16 رہائشیوں کو شارع فیصل پر واقع ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے جنہیں ہر قسم کی سہولت کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماڈل کالونی میں گرنے والے طیارے کے حادثے میں جاں بحق اور زخمیوں کی تلاش کے لیے ہونے والا سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے جس کے بعد جہاز کا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی فوری طور پر تحقیقاتی عمل کا آغاز کرے۔وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ طیارہ حادثہ کی تحقیقات کا آغاز بلا تاخیرکیا جائے اس کے لیے وفاقی حکومت کی باضابطہ منظوری کا انتظار نہ کیا جائے.اس سلسلے میں وزیر اعظم آفس نے تحریری ہدایات سیکرٹری ایوی ایشن اور متعلقہ اداروں کو بھی بھجوادی ہیں۔
طیارہ حادثے میں جہاں 96 ہلاکتیں ہوئیں وہیں دو مسافر زندہ بھی بچ گئے تھے۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں دونوں افراد کی شناخت محمد زبیر اور ظفر مسعود کے نام سے کی تھی۔انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے لیکن ابھی زخمی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور فی الحال یہ دو مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سینیٹر سعید غنی نے کراچی طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر کے ہمراہ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔ایک نجی ٹیلیویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ محمد زبیر سیالکوٹ سے کراچی عید منانے آ رہے تھے اور بدقسمت طیارے پر سوار تھے۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق محمد زبیر کا 30 فیصد جسم جل چکا ہے مگر وہ ہوش میں ہیں۔حادثے میں بچ جانے والے دوسرے مسافر ظفر مسعود تھے جو دی بینک آف پنجاب کے موجودہ صدر ہیں۔ظفر مسعود کو جائے حادثہ سے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ان کی عیادت کی.
مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کی ہے۔اس کال میں پائلٹ کو مے ڈے کال دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔کلپ کے شروع میں بظاہر پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ان کے جہاز کے تمام انجن ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ٹاور ان سے معلوم کرتا ہے کہ آیا وہ بیلی لینڈنگ کرنے والے ہیں، اور پھر انھیں بتاتا ہے کہ ان کے لیے دونوں رن وے دستیاب ہیں۔
اس کے کچھ لمحوں بعد جہاز کا پائلٹ ‘مے ڈے’ کال دیتا ہے، جس کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والی ایئر بس اے 320 جہاز کو سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ سول ایوی ایشن کے ‘ایئر وردینیس ڈیپارٹمنٹ’ نے اس دورانیے میں جہاز کی چھ مرتبہ جانچ پڑتال کی۔جہاز کی آخری انسپیکشن گذشتہ برس چھ نومبر کو ہوئی تھی۔ چھ نومبر کو ہونے والی انسپیکشن رواں برس پانچ نومبر تک موثر تھی۔پی ائی اے ک چیف انجینیئر کراچی ایئرپورٹ نے اس طیارے کو رواں برس 28 اپریل کو مینٹیننس اینڈ ریویو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ رواں سال 25 نومبر تک موثر تھا۔



