a
قراةالعین مری اور مشاہد اللہ نے قائد ایوان پر جوابی وار کر کے تحریک انصاف کی پاکدامنی سے پردہ اٹھادیا
ہم پر دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کا الزام لگانے والوں کا لیڈر اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے، قراةالعین مری
گھر کے اندر بھوک کی وجہ سے اہل خانہ لڑ مر رہے ہوں تو باہر دارالسکون اور اتحاد منزل لکھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے،مشاہد اللہ
اسلام آباد(پارلیمانی ڈائری :محمدرضوان ملک ) بدھ کو ایوان بالا کا اجلاس غالبا دو بلوں لائبلٹیز پارٹنرشپ (ترمیمی) بل 2020اور کمپنیات (ترمیمی)بل 2020ء کی منظوری کے لئے ہی بلایا گیا تھا۔اس وجہ سے سینٹ کا اجلاس بھی کچھ زیادہ دیر نہ چلا ۔جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی نے ان بلوں کی مخالفت کی اور اسے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے مفافی قراردیا ۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ان بلوں کی حمایت تو کی لیکن قائد ایوان کی جانب سے اپوزیشن کو دبانے کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پہلے تو بلوں کی منظوری پر اپوزیشن کے کردار کو سراہا لیکن پھر بلوں کی مخالفت کرنے والوں کو رگڑا لگاتے لگاتے انہوں نے توپوں کا رخ حسب روایت ماضی کی حکومتوں کی جانب بھی موڑ دیا۔ ان کے خطاب کے دوران اپوزیشن کے بعض سینٹرز نے احتجاج کیا جس کا شاہد انہیں غصہ آگیا تھا۔ اور بلو ں کی حمایت پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے کرتے انہیں سابق حکومتوں کی کوتاہیاں یاد آگئیں۔انہوں نے کہا سابق حکومت ہمارے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا کر گئی لیکن ہم عوام کے مفاد میں فیصلے کریں گے۔بعض دوستوں نے جذبات کا مظاہرہ کیا، قوم کے فیصلے جذبات سے نہیں بصیرت سے ہوتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان گرے لسٹ میں ہمارے اقتدار سے قبل تھا، منی لانڈرنگ اور ٹیررازم کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کون سی جماعت اور رہنما عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں، پاکستان کا سفر دہشت گردی کی بجائے سیاحت کی طرف گامزن ہے، حکومت کے دو سال میں ہم نے ماضی کی حکومتوں کا ملبہ بھی صاف کیا، معیشت کو مستحکم کیا، وباکا مقابلہ کیا، آج پاکستان کی قیادت اپنے محلات نہیں بنا رہی، ہماری قیادت کے سرے محل ہیں نہ رائیونڈ کے محلات، نہ فالودے والے کے نام پر ان کے اکائونٹ نکل رہے ہیں، ہم نے دو جماعتوں کے میوزیکل چیئر سے ملک کو آزاد کیا، اپنے کک بیکس کے لئے ملک کو آئی پی پیز کے حوالے کر دیا گیا، انہیں پتہ تھا ان کی حکومت نہیں بنے گی، اس لئے ہمارے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا کر گئے، اب ہم بجلی بھی سستی کریں گے، ہم پاکستان کے لئے کام کرتے ہیں، اپنے لئے نہیں، قیادت میں قوم کا درد ہو تو ہر فیصلہ عوام کے مفاد میں کرتی ہے نہ کہ ذاتی مفاد میں۔ جب انہوں نے ماضی کی حکومتوں پرتنقید شروع کی تو اپوزیشن کے سینٹرز نے احتجاج کیا ایک موقع پر مصطفی نواز کھوکھر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کی حاضری لگ گئیں۔انتظار کریں ابھی ہم نے دوسری اننگز بھی کھیلنی ہے۔ ا س کے جواب میں پہلے عوامی اہمیت کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینٹر قراةالعین مری نے کہا کہ میں صرف آپ کو یہ یا د کرانا چاہتی ہوں کہ دہشت گردی کے حوالے سے آپ کا لیڈر اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے ہم نہیں۔اور جہاں تک منی لانڈرنگ کا تعلق ہے تو غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے آپ کے خلاف الیکشن کمیشن میں کیس زیرسماعت ہے اور یہ الزام آپ کے اپنوں نے لگایا ہے جس کا آپ فیصلہ نہیں ہونے دے رہے۔ انہوں نے وسیم شہزاد کو کہا کہ دل بڑا کریں جس پر چئیرمین نے کہا کہ میں دونوں جماعتوں کے ارکان سے کہوں گا کہ دل بڑا کریں۔ مشاہد اللہ نے کہاکہ ایک درجن وزیر جو کابینہ کے اجلاس میں تو باہم دست و گریباں ہوتے ہیں کل اکٹھے بیٹھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔لیکن آپ اس ملک کے لوگوں کو بے وقوف نہ سمجھیں اگر گھر کے اندر بھوک کی وجہ سے لوگ لڑ مر رہے ہوں تو گھر کے باہر دارالسکون اور اتحاد منزل لکھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا اب اگر کسی نے اس ایوان میں جھوٹ بولا تو اس کا معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے کر جائوں گا۔ چینی 53 سے 110 پر چلی گئی آٹا 35 سے 55 پر اور صبح شام عوام کو یہ کہانیاں سنا رہے ہوتے ہیں کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے۔ جھوٹ بولنے اور پریس کانفرنسیں کرنے سے ملک ترقی نہیں کرتے ۔اگر ہمت ہے تو ایوان کی بجائے فوارہ چوک میں جا کر عوام کو خوشحالی کا یہ بھاشن دیں آپ کو لگ پتہ جائے گا۔ آپ لوگ تو کرپشن کو بھی عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔




