سترہ روز سے اغواء ہونے والے 15سالہ ذہنی معزور بچے کو ڈھونڈنے میں پولیس ناکام

چیچہ وطنی. ( رپورٹ رضوان احمد)   ڈی پی او ساہیوال کے حکم کے باوجود سترہ روز سے اغواء ہونے والے 15سالہ ذہنی معزور بچے کو پولیس ڈھونڈنے میں ناکام،ورثاء کا روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج پولیس کے خلاف نعرے بازی۔بچے کو فوری بازیاب نہ کروانے پر خود سوزی کی دھمکی۔محلہ احمد نگر کے رہائشی عبدالمجید کا 15سالہ ذہنی معزور بیٹا محمد عثمان اچانک گھر سے لاپتہ ہوگیا جس کے کچھ ہی دنوں بعد ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی نامعلوم شخص نے کہا آپ کا بچہ ہمارے پاس ہے ہم کسی فلاحی ادارے اسلام آباد کی طرف سے بات کر رہے ہیں آپ کا بچہ آپ کو مل جائے گا پہلے ہمارے شناختی کارڈ کے ذریعے ہمیں 10ہزار روپے بھیج دیں۔ ہم نے اس پر فوری تھانہ میں جا کر ایس ایچ او سٹی عزیز چیمہ سے رابطہ کیا اسی دوران پھر اس نامعلوم شخص کی کال آگئی جس پر ایس ایچ او نے خود ان سے بات کی ایس ایچ او نے کہا آپ ان کو پیسے دے دیں مگر وہ شخص تعیش میں آگیااور بچے کو قتل کرنے کی دھمکیا ں دینے لگا۔ڈی پی او ساہیوال ڈاکٹر عاطف اکرام کے سامنے پیش ہونے پر انہوں نے فوری طور پر سٹی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور بچے کو تلاش کرنے کاحکم دیا مگر سترہ روز گزرنے کے باوجودہمیں ایف آئی آر کیلئے تھانہ کے چکر لگوائے جاتے ہیں ہمارے مسلسل اصرار پر تھانہ سٹی کے محرر طارق نے غصہ میں آکرہمیں غلیظ قسم کی گالیاں دی اور دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا۔ بچے کے ورثاء نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا بچہ فوری بازیاب کروایا جائے اگر پولیس نے ہمارے لخت جگر کو بازیاب نہ کروایا گیا تو ہم خود سوزی کرلیں گےجس کے ذمہ دار پولیس انتظامیہ ہو گی: