پورے پورے خاندان شوبز میں گھس گئے ہیں جس کی وجہ سے نئے لوگ مزید محنت کریں
اس شعبے میں نام کمانے کے لئے لگن اور محنت ضروری ہے نوجوان اداکار و ماڈل اسد چوہدر ی کا روزنامہ سی پیک کو خصوصی انٹرویو
انٹرویو: خرم شہزاد اعوان

ایک دور تھا کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری اپنے مضبوط سکرپٹ اور جاندار اداکاری کی بدولت دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی اور بھارت کے شہر پونا کے فلم اینڈ ڈرامہ انسٹیٹیوٹ میں پاکستانی اداکاروں اور ڈرامہ کے کلپ دکھا کر اپنے لوگوں کو اداکاری سکھائی جاتی تھی مگر پھر وقت نے کروٹ لی اور ایک دور ایسا آگیا کہ بھارتی ڈرامہ انڈسٹری ہم سے آگے نکل گئی اور پاکستانی لکھاریوں اور ڈرامہ پروڈیوسروں نے ذیادہ پیسے کے حصول کے لئے سکرپٹ پر توجہ نہ دی اور اغیار کی پیروی شروع کردی جس سے اپنی ثقافت کو نقصا ن بھی پہنچا اور ڈرامہ انڈسٹری بھی شدید ترین ذوال کا شکار ہو گئی۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے ڈرامہ انڈسٹر ی میں ایسے چہہرے بھی آئے جنھوں نے اپنی محنت و لگن نے اس شعبہ میں اپنا نام کمایا اور تاحال اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں ان ہی میں سے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک نام نوجوان ماڈل و اداکار اسد چوہدری کا بھی ہے جنھوں نے اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود اداکاری کو اپنا پیشہ بنایا اور اقربا پروری کے اس دور میں اپنی محنت اور جاندار اداکاری سے اپنی ایک الگ شناخت بنائی گزشتہ روز روزنامہ مسلمان نے اسد چوہدری سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کی بحالی سمیت ان کی اداکاری کے حوالے سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جو نذر قارئین ہے۔
سی پیک: آپ کا اداکاری کی طرف آنا کیسے ہوا؟
اسد چوہدری: اداکاری کا شوق مجھے سکول دور سے ہی تھا سکول کے مختلف ایونٹس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا مگر پھر کالج میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور جب میں نے یو نیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس کے بعد اداکاری کے شعبہ کو سنجیدہ لینا شروع کیا جو ابھی ذور و شور سے جاری ہے۔
سی پیک:: ابھی تک آپ نے کتنے ڈراموں میں کام کیا ہے؟
اسد چوہدری: مجھے پرائوئیویٹ پروڈکشنز میں کام کرنے کا ذیادہ موقع ہے میں نے ابھی تک ہم ٹی وی سے ڈرامہ سیریل ماہ تمام کیا ہے جبکہ اے آر وائی ڈیجیٹل چینل سے ڈرامہ سیریل شور اور کب میری کھیلو گے کر چکا ہوں
سی پیک: ابھی آپ کن اہم پروجیکٹس پر کام کررہے ہیں؟
اسد چوہدری: میرے جاری پروجیکٹس میں ہم ٹی وی کے لئے ایک اہم سیریل شامل ہے جس کا نام ہے تم سے کہنا تھا یہ فہیم برنی صاحب کی پروڈکشن ہے جو پاکستان کا ایک بڑ انام ہے یہ ڈرامہ جلد ہی آن ایئر ہوگا اسکے علاوہ ایک ٹیلی فل ربڑ بینڈ ، فیچر فلم دی لاسٹ لوسٹ فوٹیج سمیت ویب سیریلز بھی کررہا ہوں جن میں کشمیر کے موضوع پر بنایا جانے والا لاک ڈائون بھی شامل ہے جس میں کشمیر کے اہم موضوعات پر فوکس کیا گیا ہے۔
سی پیک: اداکاری کے علاہ کیا آپ نے ماڈلنگ بھی کی ہے؟اسد چوہدری: جی میں نے ماڈلنگ کے بہت سے پروجیکٹس کر رکھے ہیں جن میں آئی آئی ایف پی میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ماڈلز کے ساتھ ریمپ پر واک بھی کی ہے جس پر مجھے کافی پذیرائی ملی ہے ۔

سی پیک: راولپنڈی اسلام آباد میں شعبہ اداکاری کیا حالت ہے؟
اسد چوہدری: جب میں نے اپنا کام شروع کیا تو مجھے بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کوئی سکھانے والا ہی نہیں تھا اسلام آباد پاکستان کا دار الخلافہ ہے یہاںپر بہت بڑے بڑے ڈرامے بھی بن چکے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں پرنئے لوگوں کو سکھانے کے لئے کوئی بھی اکیڈمی موجود نہیں ہے اپنی اس مشکل کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر نئے لوگوں کو اداکاری سمیت دیگر پروڈکشن سکھانے کے لئے ایک اکیڈمی بنائی ہے جس کا واحد مقصد نئے لوگو ں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر نا ہے۔
سی پیک: آپ نے جو اکیڈمی بنائی ہے اس کا کیا نام ہے اور مقصد کیا ہے؟
اسد چوہدری : میںنے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایکٹرز لیبارٹری کے نام سے ایک اکیڈمی بنائی ہے جس میں شوبز کی طرف آنے والے نئے لوگوں کو ڈرامہ پروڈکشن سمیت اداکاری اور ماڈلنگ کی تربیت دی جارہی ہے جس کے دوررس نتائج نکل رہے ہیں ہم اپنی اکیڈمی میں پاکستان کے نامور اداکاروں اور پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز کو مدعو کرتے ہیں جو نئے سیکھنے والوں کو اداری اور پروڈکشنز کے متعلق تربیتی لیکچرز دیتے ہیں۔ میرا اس اکیڈمی کو بنانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کو فراڈ اور دھوکہ دینے والے عناصر سے بچایا جائے ہمارے معاشرے میں موجود بعض لوگ نوجوانوں کو اداکاری کا لالچ دے کران سے پیسہ بٹور لیتے ہیں جس کے سدباب کے لئے ہم نے نوجوانوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا ہے تاکہ وہ اپنے شوق کو پورا کرسکیں ۔
سی پیک: کیا پاکستانی ڈرامہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا؟
اسد چوہدری : جی بالکل اب حالات بہتری کی جانب چل رہے ہیں پرائیویٹ پروڈکشنز میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اب بہتر ڈرامے بننا شروع ہو چکے ہیں سکرپٹ پر بہت کام ہورہا ہے اپنی ثقافتی روایات کو مد نظر رکھ کر کام کیا جارہا ہے جس کے اچھے نتائج مل رہے ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ایک بار پھر پوری دنیا میں پاکستانی ڈرامہ کی دھوم ہو گی۔
سی پیک: اداکاری کو بطور پیشہ اپنایا جا سکتا ہے اس میں کام کرنے سے اچھا معاوضہ مل جاتا ہے؟؟اسد چوہدری: اداکاری ایک مکمل پیشہ ہے جو لوگ اس کو شوق کی خاطر لیتے ہیں ان کے لئے تو شاید اس شعبہ میںکچھ نہ ہو مگر جو لوگ بطور پروفیشن اس میں کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان کو بہت محنت کرنا ہوگی اور جب ان کے کام کی قدر ہونے لگی تو پھر پیسہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے پاکستان میں ادکاری سے لوگ کروڑوں بھی کماتے ہیں یہ انسان کی لگن اور محنت کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے۔
سی پیک: اداکاری کے شعبہ میں نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینگے؟اسد چوہدری: شوبز کا شعبہ اتنا آسان نہیں ہے اس میں آپ کو مکمل وقت دینا ہوگا اگر لگن اور محنت سے کام کیا جائے تو پھر کامیابی انسان کا مقدر بن جاتی ہے میرا نئے آنے والوں کو یہ پیغام ہے کہ اداکاری کیلئے باقاعدہ تربیت حاصل کی جائے ہم نے اپنے وسائل کے اندر رہ کر اکیڈمی بنا کر راولپنڈی اسلام آباد کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے جس کا حصہ بن کر آپ ادکاری سمیت دیگر شوبز شعبہ جات کے متعلق اہم پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرکے اس شعبہ میں نام کما سکتے ہیں میری سب پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ شوبز میں آنے کے لئے کوئی شارٹ کٹ راستہ استعمال نہ کریں اور نہ ہی دھوکہ دہی کرنے والے اور فراڈ کرنے والے لوگوں کوکوئی پیسہ دیں بلکہ ہماری اکیڈمی کا حصہ بن کر اپنے شوق کی تکمیل کریں۔


