25 میں سے صرف 4 کو ہی کیوں پکڑا گیاکچھ جگہوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے نیب کے پر جلتے ہیں،نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو اسے کچھ نظر نہیں آتا
اس سارے معاملے میں سب سے بڑا بینیفشری بحریہ ٹائون ہے،بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر میں ساری رقم بحریہ ٹائون کے اکاونٹس سے منتقل ہوئی ہے ،ملزمان کے وکلاء کا موقف

اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)عدالت عظمی نے نیب کے ایک مقدمہ میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے ملزمان کی گرفتاریوں کے طریقہ کار میں عدم شفافیت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکوٹر جنرل نیب کو آئندہ پیر تک نیب آرڈیننس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے طریقہ کار کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کیا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کچھ جگہوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے نیب کے پر جلتے ہیں،نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو اسے کچھ نظر نہیں آتاہے جبکہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی ریفرنس میں کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کو نہ پکڑنے کی کیا منطق ہے؟ 25 ملزمان میں سے صرف 4 کو ہی کیوں پکڑا گیاہے؟جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بدھ کے روز جعلی بنک اکاونٹس کیس کے ملزمان ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ وغیرہ کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں کی سماعت کی تو ملزم ڈاکٹر ڈنشا کے وکیل رشیداے رضوی نے بیان کیا کہ میرا موکل پچھلے 20 ماہ سے جیل میں بند ہے،نیب کے ریفرنس میں میرے موکل کو تو پکڑا گیا ہے باقی ملزمان آزاد ہیں،انہوںنے بتایا کہ گلیکسی کنسٹرکشن کے چیف ایگزیکیٹیو افسر زین ملک ہیں،انہوںنے کہا کہ میرے موکل نے قانونی طریقے سے پلاٹ خریدا،ہے لیکن چونکہ وہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کمزور ہے،اس لئے اسے بند کیا ہوا ہے ،اس ریفرنس کے 86 گواہان ہیں ،اگر یہ کیس اسی رفتار کے ساتھ چلتا رہا تو میرا موکل تومزید تین سال تک جیل میں ہی بند رہے گا ،دوران سماعت ایک اور ملزم لیاقت قائم خانی کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ اس سارے معاملے میں سب سے بڑا بینیفشری بحریہ ٹائون ہے،بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر میں ساری رقم بحریہ ٹائون کے اکاونٹس سے منتقل ہوئی ہے ،پراسیکوٹر جنرل نیب اصغر حیدر نے بیان کیا کہ یہ درخواست گزار اس ریفرنس کے مرکزی ملزمان ہیں،اسی بنا پر انکو پکڑا گیا ہے، انہوںنے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ باقی ملزمان کی عدم گرفتاری میں سب سے بڑی وجہ پلی بارگین ہے,پلی بارگین کی درخواستوں کی وجہ سے نیب کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،بحریہ ٹان کی 6 پلی بارگین کی درخواستیں منظور ہوچکی جبکہ سات زیر التوا ہیں،انہوںنے کہاکہ نیب صرف میرٹ پر ہی گرفتاری کرتا ہے، اب نیب کا طریقہ کار بدل چکا ہے پہلے ملزم کا کال اپ نوٹس جاری کرکے اس سے جواب طلب کیا جاتا ہے جس کے بعدقان کے مطابق کاروائی ہوتی ہے، جوملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے ،شاید انہوںنے پلی بارگین کی درخواستیں دے رکھی ہوں ،ہم اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ میں تمام حقائق بیان کر دیں گے،جس پرجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی ریفرنس میں کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کو نہ پکڑنے کی کیا منطق ہے؟ 25 ملزمان میں سے صرف 4 کو ہی کیوں پکڑا گیاہے ،درخواست گزار ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے جیل میں بند ہے اور ابھی تک فرد جرم تک عائد نہیں کی گئی ہے ،عدالت کو بتائیں کہ قانون کے مطابق نیب کا ملزمان کی گرفتاری کا طریقہ کار کیا ہے؟جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں اس بات کی تشویش ہے کہ نیب اس ریفرنس میں کچھ ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کر رہا ہے ،جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کچھ جگہوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے نیب کے پر جلتے ہیں،نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو اسے کچھ نظر نہیں آتاہے ،بعد ازاں فاضل عدالت نے مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔



