عالمی جاب مارکیٹ میں بہتر مواقع حاصل کرنے کے لئے ہمارے نوجوانوں کو فنی مہارتوں کی تربیت بھی حاصل کرنا ہوگی،خالد نواز

راولپنڈی (جنرل رپورٹر ) اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کی محافظ ایجنسی نائٹ ہیومن مینجمنٹ و شالان جی ایل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد نواز نے کہا ہے کہ روایتی تعلیم کی جگہ اب مختلف مہارتوں کی تعلیم نے لے لی ہے اور عالمی جاب مارکیٹ میں اب ان ہی لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو نہ صرف مہارتوں سے لیس ہوں بلکہ مختلف مروجہ فنون پر مکمل دسترس رکھتے ہوںگے . اس تناظر میں ہمارے نوجوانوں کو پوری توجہ کے ساتھ جدید عصری فنون کی تعلیم حاصل کرنی چائیے . انہو ںنے ان خیالات کا اظہار سکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں مختلف فنی مہارتوں میں تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ . انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے جو کوششیں کر رہی ہے وہ لائق تحسین ہیں مگر ابھی ان میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے . خالد نواز نے طلبہ سے کہا کہ کمپیوٹر اپلیکیشن سمیت مختلف فنون سیکھتے ہوئے اساتذہ کی جانب سے دئیے گئے اسباق سے ہٹ کر نیٹ کا مفید استعمال کریں اور خود بھی فنی کی معراج تک پہنچنے کی کوشش کریں۔. انہو ںنے کہا کہ جدید فنی تعلیم کے فروغ میں ہم نے بھارت سے آگے نکلنا ہے جس کیلئے ملک کے طول و عرض بالخصوص دیہی علاقوں میں معیاری فنی تربیتی مراکز کی ضرورت ہے . یہ ضرورت اس وقت تک کماحقہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک حکومت کے ساتھ ساتھ نجی ادارے اور وطن سے محبت کرنے والے متمول لوگ آگے نہیں آتے . ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ بڑے بڑے ادارے بالخصوص اپنی ضروریات سے ہم آہنگ فنی تعلیم و تربیت کے فروغ کے اداروں کے قیام میں معاونت کریں . اس طرح تیار ہونے والی ہنر مند افرادی قوت نہ صرف ملک کے اندر صنعت و تجارت ، زراعت اور طب سمیت دیگر شعبوں کی پیداوار کو جدت دیں گے بلکہ عالمی تجارتی منڈیوں میں بھی ہمارے ہنر مند باآسانی روزگار حاصل کر سکیں گے جس سے غربت و بے روزگاری میں کمی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کو بیرونی ممالک سے قیمتی زرمبادلہ بھی ملے گا ۔