رئیل اسٹیٹ اور اس سے منسلک شعبوں کی استعداد کو بروئے کار لا کر 2040 تک پاکستان کی معیشت میں 1.7 کھرب ڈالر تک کا اضافہ ممکن ہے ، شفیق اکبر

اسلام آباد:رئیل اسٹیٹ اور اس سے منسلک شعبوں کی استعداد کو بروئے کار لا کر سال 2040 تک پاکستان کی معیشت میں 1.5 تا 1.7 کھرب ڈالر تک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ امارات گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین شفیق اکبر نے کہا ہے کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کاحجم اس وقت 1.4 کھرب ڈالر کے قریب ہے جس میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے بزنس کا حجم 900 ارب ڈالر ہے جبکہ بغیر منصوبہ بندی کے تحت چلنے والے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے شعبہ کی مالیت 500 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اپنے ایک انٹریو میں شفیق اکبر نے کہا کہ ہمیں شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ قومی معیشت کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی ترقی کی مستحکم بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ میں پراپرٹی کے حوالہ سے کیسز کے خاتمہ سے اس کی ترقی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پانچ سال کے دوران پاکستان میں 5 ملین گھروں کی تعمیر کا منصوبہ رکھتے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ گھریلوضروریات کے حوالے سے ایک سوال پر شفیق اکبر نے کہا کہ اگر ہم سال 2040 تک ہر سال ایک ملین گھر بھی تعمیر کرتے رہیں تو گھرون کی 60 فیصد طلب کو پورا کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کی تعمیر کے منصوبہ سے نہ صرف 2.5 ملین روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے جڑی صنعتوں کی ترقی اور بحالی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف رئیل اسٹیٹ اور اس سے منسلک شعبوں کی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے 2040 تک قومی معیشت میں 1.5 تا 1.7 کھرب ڈالر اضافہ کیاجا سکتا ہے۔