امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب برہم،روس کاسعودی عرب سے تعلقات کو وسعت دینے کا اعلان

امریکا چین سے تعلقات خراب کرکے غلطی کر رہا ہے،یورپ چاہے تو یوکرین کا مسئلہ پرامن طور پر حل ہوسکتا ہے مغرب کو کوئی حق نہیں کہ وہ سب کو اپنے راستے پر چلائے،پیوٹن


ریاض :مریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب نے برہمی کا اظہا کیا ہے ۔سعودی عرب نے اسے مارکیٹوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ لوگ اپنے ایمرجنسی ذخائر جاری کررہے ہیں، پہلے بھی کرچکے ہیں، اسے مارکیٹس پر اثرانداز ہونے کے مکینزم کے طور پر استعمال کیا گیا ۔حالانکہ اس کا اصل مقصد تیل کی سپلائی کی قلت کو ختم کرنا تھا۔ تیل کے ایمرجنسی ذخائر میں کمی آنے والے مہینوں میں انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب اور واشنگٹن کے درمیان دہائیوں پر محیط دیرینہ دوستی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں، آگے چل کر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ انہیں یہ سننے کو مل رہا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؟ کیا اس بات کی کوئی گنجائش ہے؟ ہم سعودی عرب کیلئے ہیں اور ہم سعودی عوام کیلئے ہیں۔
یا د رہے کہ قبل ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار کم کرنے پر سعودی عرب کے خلاف جلد ایکشن لیا جائے گا۔ تیل کی پیداوار میں کمی کے نتائج سعودی عرب کو بھگتنا ہوں گے۔ تیل پیداوار میں کمی کے فیصلے کے بعد سعودی عرب سے تعلقات پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سردیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تیل کی پیداوار میں کمی سے روس کو فائدہ ہو گا۔ ابھی یہ نہیں بتایا کہ انکے ذہن میں کیا ہے مگر واضح کیا کہ سعودی عرب کو نتائج ضرور بھگتنا ہوں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں کمی کے اوپیک کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اوپیک کا فیصلہ خالصتا اقتصادی اور اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔ اوپیک کے ممبران نے ذمہ داری سے اپنا کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا۔
ادھر روس نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا اعلان کردیا۔ صدر ولادی میر پیوٹن نے ماسکو میں سالانہ خطاب کے دوران کہا کہ براکس گروپ میں سعودی عرب کی شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہئے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی عزت کریں، تیل کی قیمت نہیں منڈیوں میں استحکام ضروری ہے۔
پیوٹن نے امریکی عہدیداروں کے دورہ تائیوان کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے، امریکی حکام کا دورہ جارحیت تھی، امریکا چین سے تعلقات خراب کرکے غلطی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس یورپ کا دشمن نہیں، یورپ چاہے تو یوکرین کا مسئلہ پرامن طور پر حل ہوسکتا ہے لیکن مغرب کو کوئی حق نہیں کہ وہ سب کو اپنے راستے پر چلائے۔