12 مئی کو شوال کا چاند نظر آ سکتا تھا یا نہیں؟ معاملہ مزید الجھ گیا


اسلام آباد:بارہ مئی کی رات ساڑھے گیارہ بجے اچانک مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے کئے جانے والے عید کے اعلان کے بعد شوال کے چاند پر تنازع اور بحث کا سلسلہ تاحال نہیں تھم سکا ہے اور شوال کے چاند کے حوالے سے اب ایک نیا دعوی سامنے آیا ہے۔
ڈائریکٹر اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ علم فلکیات کے تحت 12مئی کو چاند نظر آنے کا امکان نہیں تھا، ٹیلی اسکوپ سے بھی چاند دیکھنا ناممکن تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے جمعرات کی شام کے چاند کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ درست تھا، روزے کی قضاکی ضرورت ہے اور نہ ہی فیصلہ غلط تھا۔
یاد رہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے 12 مئی کی رات ساڑھے 11 بجے شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے اس معاملے پر ایک نہ رکنے والی بحث کا سلسلہ شروع ہے۔ابھی تک پوری قوم اس پر حیران ہے
سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے اپنے ایک بیان میں قوم سے ایک روزے کی قضا اور ایک دن کا اعتکاف رکھنے کی اپیل کی تھی۔
عید کا دوسرا روز ختم ہوگیا ہے لیکن تاحال پورے ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا عید کا فیصلہ درست تھا یا نہیں کیونکہ چاند نظر آنے کی بہت کم شہادتیں موصول ہوئی تھیںاور سوائے پشاور کے اسلام آباد ، لاہور، کراچی اور دیگر شہروں سے چاند نظرآنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی تھی۔