غربت کا خاتمہ، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، ثقافتی تبادلے اور علم شئیرنگ پلیٹ فارم کی ترجیحات ہوں گی
مشترکہ تحقیقی مرکز سچ بتانے، نامعلوم معلومات کا حصول اور شیطانیت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا
بیجنگ(شِنہوا) چین اور پاکستان سمیت تین ممالک کے ساتھ مشترکہ ریسرچ سینٹر اور علمی تبادلے کرنے کے پلیٹ فارم کا آغاز ہوگیا ہے۔ایک یادداشت کے مطابق چین کے معاصر چین اور عالمی علوم کی اکیڈمی اور پاکستان کے پاکستان۔چائنا انسٹی ٹیوٹ کے درمیان معاصر چین اور دنیا نامی مشترکہ ریسرچ سینٹر قائم ہو گیا۔اس منصوبے سے منسلک اسٹاف نے شِنہوا کو بتایا کہ غربت کا خاتمہ، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، ثقافتی تبادلہ کو چین اور پاکستان کے درمیان علم کو شیئر کرنے کے اس پلیٹ فارم میں ترجیحات رکھی جاتی ہیں۔ فریقین کتاب کی اشاعت اور تھنک ٹینک فورمز سمیت متعدد ذرائع سے تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔معاصر چین اور عالمی علوم کی اکیڈمی کے صدر یو یون چھان نے کہا کہ توقع ہے کہ تبادلہ اور تعاون کا یہ طریقہ کار دنیا میں چینی مسائل پر ماہرین اور اسکالرز کے لئے بہتر خدمات فراہم کرسکتا ہے اور لوگوں کو چین کو سمجھنے کے لئے وقت کی لاگت کو کم سے کم کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ علم کو شیئر کرنے کا یہ منصوبہ پاکستان کے علم اور معلومات کو دنیا میں بانٹ دے گا۔پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے مشترکہ ریسرچ سینٹر اور علم کو شیئر کرنے کے پلیٹ فارم کو لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیںاس لئے مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے ۔ یہ مشترکہ تحقیقی مرکز سچ بتانے، نامعلوم معلومات کا حصول اور شیطانیت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

