برطانوی پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کشمیر مباحثے میں اپنے ارکان پارلیمنٹ کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے متحرک ہو جائیں
برطانوی ممبران پارلیمنٹ حکومت پر زور دیںکہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر مودی حکومت کو جوابدہ کرے

اسلام آباد(محمدرضوان ملک) برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث 23 ستمبر بروز جمعرات کو ہوگی ،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے ممبران پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ برطانوی دارالعوام میں بھارت کی جانب سے 92 سالہ قائد مرحوم سید علی شاہ گیلانی کی لاش کے اغواء بے حرمتی اور زبردستی تدوین اور اشرف صحرائی کی رات کی تاریکی میں مردہ خانے میں زبردستی تدفین کے معاملے کو اٹھائیں یہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ”نوائے وقت”سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں 1949 کے جنیوا کنونشنز آرٹیکل 17 کے خلاف ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بھارتی حکومت کے غیر قانوی، غیر انسانی اقدامات اور ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی بھارتی حکومت نے گذشتہ دو سال سے جس طرح کے حالات پیدا کر رکھے ہیں انہیں اجاگر کرنے اور مودی حکومت کا گھناونا چہرہ اور سازشوں کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مختلف ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں میںممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں اور خطوط لکھنے کا سلسلہ جارہی ہے ۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے مرکزی رہنما ئوںبرانچ ناظمیں کمیونٹی کے سرکردہ رہنمائوں اور کونسلروں نے رابطے اور لابنگ شروع کر دی ہے تا کہ بڑی تعداد میں ممبران پارلیمنٹ اس بحث میں شرکت کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمائت اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔فہیم کیانی نے کہا کہ سید علی گیلانی کی شہادت کے بعد بھارتی حکومت نے ان کی میت اور ان کی فیملی کے ساتھ جو توہین آمیز سلوک کیا اس حوالے سے بھی ممبران پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے گا کہ برطانوی حکومت بھارت کے ان اقدامات پر مودی حکومت کو جوابدہ کرے کہ بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب ہو ہے ا س سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت میں کوئی جمہوریت اور انسانی حقوق نہیں ہیںبرطانیہ اس کا نوٹس لے اور اپنے سفارتی تعلقات کو برو ئے کار لا کر اس پر بھرپور احتجاج کیا جائے ۔انہوں نے کہا کشمیر پر یہ بروقت بحث برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ہندوستان کے سفاکانہ اقدامات کو بے نقاب کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر راہ ہموار کرے گی انہوں نے کہا "شہید سید علی شاہ گیلانی کی جبری تدفین ، اشرف صحرائی کا حراستی قتل ، کشمیری نوجوانوں کے جعلی مقابلے ، کشمیر کا وحشیانہ محاصرہ ، اجتماعی قبریں ، اجتماعی عصمت دری ، میڈیا پر پابند یاں، مواصلاتی بلیک آئوٹ اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی حراست خصوصا سیاسی قیدیوں مسرت عالم ، آسیہ اندرابی ، یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض ، ظفر اکبر بھٹ ، نعیم خان اور پیر سیف اللہ کی حراست بے نقاب ہوگی ۔صدر تحریک کشمیر برطانیہ ، فہیم کیانی نے برطانوی پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ ہائوس آف کامنز میں کشمیر مباحثے میں اپنے ارکان پارلیمنٹ کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے متحرک ہو جائیںانہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث بی بی سی پر براہ راست نشر کی جائے گی ۔ "ایوان کا اجلاس جمعرات کی صبح 9.30 بجے ہوگا۔



