خطے کی صورت حال کے باعث کھلاڑی ذہنی دبائو میں تھے تاہم مستقبل میں 2022ء میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا عزم رکھتے ہیں، انگلینڈ کرکٹ بورڈ
انگلینڈ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ، رمیز راجہ ،پہلے سے طے تھا کہ پاکستان کا بیانیہ خراب کرنا ہے۔
Riz-Sep20+10 England Tour
اسلام آباد(محمدرضوان ملک / نیوزرپورٹر) پاکستان کرکٹ اور شائقین کرکٹ کے لئے ایک اور بری خبر نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مردوں اور خواتین کی کرکٹ ٹیم نے بھی دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔انگلینڈ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ، رمیز راجہ پاکستانی کرکٹر ز نے بھی فیصلے کو مایوس کن قراردیا۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنے سابق کپتان مائیکل وان کا مشورہ بھی نظر انداز کر دیا جنہوں نے عرب امارات میں سیریز کھیلنے کی تجویز دی تھی۔انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے "خطے کے سفر کے بارے میں خدشات” کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا دورہ پاکستان ترک کر دیا ہے۔نگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خطے کی صورت حال کی وجہ سے کھلاڑی ذہنی دبائو میں تھے ہچکچاتے ہوئے اکتوبر کے دورے سے دونوں ٹیموں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ انگلینڈ کی مرد وں کی ٹیم نے 13 اور 14 اکتوبر کو آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 سے قبل پاکستان میں دو ٹی 20 میچ کھیلنے تھے۔ خواتین کی ٹیم بھی ایک محدود اوورز کی سیریز کے لیے بیک وقت علاقے کا دورہ کرنے والی تھی جس میں دو ٹی 20 اور تین ون ڈے شامل ہیں۔کرکٹ بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تاہم انگلینڈ کرکٹ بورڈ 2022 میں مردوں کے مستقبل کے دورے کے پروگرام کے حصے کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے کا دیرینہ عزم رکھتا ہے۔”ان حالات میں "ہمارے کھلاڑیوں اور معاون عملے کی ذہنی اور جسمانی فلاح ہماری اولین ترجیح ہے اور یہ اس وقت بھی زیادہ اہم ہے جب ہم اس وقت رہ رہے ہیں۔ ایک کھیلنے والے گروپ پر مزید دبا ئوڈالیں جو پہلے ہی محدود کوویڈ ماحول میں طویل عرصے تک کام کر چکا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ
"ہمارے مردوں کے ٹی 20 اسکواڈ کے لیے ایک اضافی پیچیدگی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں دورہ کرنا آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں ہوگی ، جہاں 2021 کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ اولین ترجیح ہے۔
"ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ پی سی بی کے لیے ایک اہم مایوسی ہوگا ، جنہوں نے اپنے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی میزبانی کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ پر اس کے اثرات کے لیے ہم مخلصانہ طور پر معذرت خواہ ہیں اور 2022 کے لیے ہمارے اہم ٹورنگ پلان کے لیے جاری عزم پر زور دیتے ہیں۔ای سی بی کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ نیوزی لینڈ کے مردوں کی جانب سے پاکستان میں اپنی محدود اوورز کی سیریز سے دستبردار ہونے کے چند دن بعد آیا ہے جب ان کی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ نے کہا کہ اس فیصلے سے مایوسی ہوئی انگلینڈ کی جانب سے کمٹمنٹ پوری نہ کئے جانے پر افسو س ہے ۔ہمارے لئے یہ ایک ویک اپ کال ہے کہ ہم نے دنیا کی بہترین ٹیم بننا ہے۔
قبل ازیں انگلینڈ کرکٹ کے سابق کپتان ٹیم مائیکل وان نے پاکستان انگلینڈ سیریز منسوخ نہ کرنیکی تجویز دے دی تھی ۔سابق کپتان انگلش کرکٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ اگر سفر کرنا غیر محفوظ ہے تو میچ منسوخ کرنے کی بجائے شفٹ کرنے چاہیئں۔مائیکل وان نے تجویز کیاتھا کہ انگلینڈ کے پاکستان میں میچ متحدہ عرب امارات منتقل کرنا سمجھدارانہ فیصلہ ہوگا۔ڈیرن سیمی نے بھی فیصلے کو مایوس کن قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں بھی حملے ہوتے دیکھے ہیں۔سابق کرکٹر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ پہلے سے طے کیا گیا تھا کہ پاکستان کا بیانیہ خراب کرنا ہے۔
بشکریہ:نوائے وقت


