سانحہ مری انتظامیہ کی غفلت سے پیش آیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں اہم انکشافات

برف ہٹانے والی مشینری ایک جگہ کھڑی تھی اور عملہ غائب تھا،محکمہ موسمیات کی وارننگ کو بھی مسلسل نظر اندازکیا گیا، انکوائری کمیٹی

اسلام آباد: انکوائری کمیٹی نے سانحہ مری کا ذمہ داری انتظامیہ کو قرار دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ مری پر قائم 5 رکنی انکوائری کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 7 اور 8 جنوری کی رات برف ہٹانے والی مشینری ایک جگہ کھڑی تھی اور عملہ غائب تھا،محکمہ موسمیات کی وارننگ کو بھی مسلسل نظر اندازکیا گیا
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی مری کے دورے کے بعد لاہور روانہ ہوگئی ہے،کمیٹی نے فائنڈنگز کو ڈرافٹ کی شکل دیدی ہے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انتظامی محکموں کے 30 سے زائد افسران کے بیانات قلمبندکیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہیکہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ انتظامیہ کی غفلت سے مری سانحہ پیش آیا، سیاحوں نے 7 اور 8 جنوری کی رات کو خوفناک تجربہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق 7 اور 8 جنوری کی رات برف ہٹانے والی مشینری ایک جگہ کھڑی تھی اور عملہ غائب تھا،محکمہ موسمیات کی وارننگ کو بھی مسلسل نظر اندازکیا گیا۔خیال رہیکہ 7 اور 8 جنوری کی رات کو مری میں برفانی طوفان اور بارش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعوی کیا ہے کہ وہ اگر مری نہ جاتے تو 23 کے بجائے 30،40 اموات ہوتیں ، وہاں جاکر سب اداروں کو بلایا۔راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مری میں رینجرز کو اس لیے طلب کیا کیونکہ کوئی پولیس کی بات نہیں سن رہا تھا۔