تحریرعظمی گل دختر جنرل حمید گل
قومی سلامتی پالیسی درحقیقت پالیسی کم ایک نوآموز طالب کی علمی کاوش زیادہ لگتی ہے۔ اب سے پہلے باقاعدہ اعلان کرکے پالیسی تو نہ بنائی گئی تھی لیکن 74سال سے پاکستان کی سلامتی پالیسی اور دفاع پر باقاعدہ کام ہوتا رہا ہے۔ ہماری دفاعی پالیسی ہمیشہ پاکستان کے نظریات سے منسلک رہی کیونکہ پاکستان دو قومی نظریے اور اسلامی نظریات پر عمل درآمد کے لئے ہی وجود میں آیا تھا۔ پاکستان کا کردار عالمِ اسلام میں اسی وجہ سے بلند رہا کہ وہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا واحد ملک ہے جبکہ دنیائے اسلام بجا طور پر ہماری افواج سے اپنی بقااور حفاظت کی امید باندھے ہوئے ہے۔جب پاکستان نے جوہری صلاحیت حاصل کی تو ہمارے بم کو "اسلامی بم”کہا گیا ۔ دنیا حیران تھی کہ کیسے جو ملک سوئی تک نہیں بنا سکتا اور ہمیشہ معاشی طور پرلولا لنگڑا رکھا گیا ہے نیجوہری صلاحیت حاصل کرلی۔ کمال تو یہ ہے کہ اس دوران جتنی بھی حکومتیں بدلیں مشن سے کسی نے روگردانی نہ کی ۔مئی 1998 کو پاکستان اپنے پہلے کامیاب جوہری دھماکے کرکے دنیا کا ساتواں جوہری ملک بن گیا۔الحمداللہ! اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل، ہندوستان، امریکہ، فرانس اور برطانیہ وغیرہ کو کس قدر تکلیف پہنچی ہوگی۔جنہوں نیآج تک اقوامِ متحدہ میں کسی اسلامی ملک کو ویٹو کی طاقت نہ دی، مقبوضہ فلسطین پر بیسیوں قرار دادیں پاس کرنے کے باوجود غاصب صیہونی اسرائیل کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہ کی بلکہ مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم کیدفاع کا حق تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں پر اسرئیل کو مزید شہ دی۔ وہ خائف ہیں کہ یہ "اسلامی بم” فلسطینیوں کے دفاع میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ عرب دنیا کے درمیان ایک چھوٹی سی غیرقانونی ریاست اگر آج بھی قائم ہے تو اس کی وجہ برطانیہ، امریکہ اور ہر ناجائز کام میں ان کے اتحادی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عالمِ اسلام اگر اکھٹا ہو گیا تو اسرائیل تو کیا کوئی بھی فلسطین یاکسی اسلامی ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے گا۔وہ جان چکے ہیں کہ صرف پاکستان میں ہی اس کی قابلیت ہے۔ اسی لئے پاکستان کو بیرونی طور پر کمزور کرنا آسان نہ پاکر اسے اندر سے کمزور کیا جا رہا ہے۔ کہیں بلوچستان میں "را” کے ذریعے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی اور مالی معاونت سے، تو کہیں کراچی جیسے کاروباری شہر کو بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا کر، کہیں ٹی ٹی پی کے ذریعے عسکری اداروں اور مظلوموں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں سے اور کہیں ملک کی معیشت کا آئی ایم ایف کی عوام دشمن پالیسیوں کے ذریعے بھٹہ بٹھا کر۔پاکستان درحقیقت اس چومکھی مار سے بے حال ہو چکا ہے۔ ہمارے ارباب ِاختیار کو وہ وسعت نظر درکار ہے جو انھیں دوست و دشمن میں تمیز سکھائے اور ان میں پاکستان کے وسیع تر مفاد میں دوررس فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ آج لبرل امت کے نظریہ کو یکسر رد کرتے ہوئے دانشمندی کیپھول جھاڑتے ہیں کہ یہ نظریہ تو متروک ہو چکا۔کوئی پوچھے ان سے کہ یورپی یونین کس بات پر متحد ہو ئی؟کیوں ترکی کو اسمیں سیکولر ہونے کے باوجود شامل نہیں کیا جاتا۔کیوں امریکہ مختلف ناموں سے مختلف ممالک سے اتحاد کرتا ہے جن میں مسلمان ممالک شامل نہیں ہوتے اور بالفرض ایسا کیا بھی جائے تو صرف سو فیصد طفیلی ملک کہ جس کی مجال نہیں ہوتی کہ پر بھی مارے۔ اسی طرح اور بہت سے اتحاد ہیں جو عالمی دنیا اپنے مفادات کے لئے بناتی ہے مگر جب بات امت کی ہو تو اسلام کی طاقت سے خائف امت کی بات کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ امت کا نظریہ آج کے حالات میں سب سے زیادہ متعلقہ ہے اور چاہے کوئی کچھ بھی کہے پاکستان ہی قومی وملی وحدانیت کا علمبردار ہے۔ پچھلے ہفتیوفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے اعلان کیا کہ سلامتی پالیسی کے شاخسانے کے طور پر پاکستان نے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی اسکیم کا آغاز کردیا ہے۔ البتہ انھیں اس کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہو گی جو صرف رئیل اسٹیٹ سے ہی منسلک ہوگی۔اس سلسلے میں ترکی کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ایک لاکھ سے تین لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر شہریت دینے کا اعادہ کیا۔ ان کے مطابق طالبان حکومت آنے کے بعد امیر افغان باشندے ملک سیہجرت کرکے ترکی یا ملائشیا جارہے ہیں ۔ جس سیپاکستان میں انکی سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار ہو گا۔ امریکہ وکینیڈا میں مقیم سکھ برادری کو پاکستان میں جائیداد خریدنے کا موقع دینے کے علاوہ چینی شہریوں کے لیے بھی موقع دینا ہے جو پاکستان میں آباد ہوکر کاروبار یا صنعت لگانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ اور وزارتِ داخلہ کو بورڈ آف انویسٹمنٹ سیغیرملکی افراد کو مزید سہولیات دینے کی تجاویز مانگی گئی ہیں۔ پالیسی کے مطابق غیر ملکی افراد پاکستان میں گھر، کاروبار، زمین وغیرہ خرید سکیں گے ۔ کرتار پور کے آس پاس بھی سکھ برادری کو زمینیں خریدنے کے لئے مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ یوں گوادر کی زمینیں بھی بھاری رقوم کے عوض چینی باشندوں کو بیچی جائیں گی اور آزاد کشمیر کی زمینوں کے بھی اچھے داموں سودے ہو سکیں گے۔ اگر سکھ برادری کو کرتارپور کے آس پاس کی زمین فروخت کرنا ہی تھیں تو پھر وزیراعظم نے کرتارپور میں قوم کے 20سے21 ارب روپے کیوں ڈبوئے؟ سکھ برادری کو دربار صاحب کرتارپور پراپنے فنڈز لگانے دیتے۔ اسطرح ہمارے گاوں کے گاوں دربدر ہوتے نہ حکومت کے ہاتھوں لوگ کوڑیوں کے مول اپنی زمینیں کھوتے۔ کیاکرتار پور پر زمینیں خریدنے کے بعد خالصتان آزاد ہونے پر سکھ ان زمینوں کو خالصتان میں ضم کرنے کے خواہشمند نہ ہوں گے جبکہ وہ بلکل انکے باڈر کے ساتھ ہیں؟بعینی ملیشیا میں چین نے زمینیں خرید کر لینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کئے جن کے باعث مقامی صنعت سازی، ذریعہ معاش اور روزگار سب ختم ہو گیا اور مقامی لوگوں کے احتجاجات پر وزیر اعظم مہاتیر محمد کوپالیسی تبدیل کرنا پڑی۔ گوادر کی ہڑتال بھی ایسے ہی غیر ملکی ٹرالروں کے خلاف تھی جنہوں نے مقامی ماہی گیروں کا روزگار ختم کر دیاتھا۔ کون بناتا ہے ایسی پالیسیاں اور ہم کیوں اغیار کے بتائے ہوئے رستے پر بنا سوچے سمجھے نکل پڑتے ہیں ۔ آج اگر ہم قومی سلامتی پالیسی کی آڑ میں اپنی سمت تبدیل کرکے صرف معیشت ہی کی رٹ لگا رہے ہیں تو پھر جلد ہی معیشت کی آڑ میں فوج کو بھی غیر ضروری قرار دیں گے ۔ اگر قومی سلامتی پالیسی کے تحت اگلے ایک سو سال ہندوستان سے جنگ نہیں تجارت ہی کرنی ہے تو یہ بیانیہ بھی زور پکڑے گا کہ ہمیں جوہری صلاحیت کی بھی ضرورت نہیں۔ فروری 2020 کو ہندوستان سے یکطرفہ سیز فائر کے اعلان کے بعد اب نیا خیال متعارف کرایا جارہا ہے کہ سیاچن کو "نیوٹرل” غیر جانبدار علاقہ قرار دے دیا جائے۔ 1984 میں ہندوستان نے بلا وجہ،بلا اشتعال سیاچن پر اپنی فوج کے ذریعے قبضہ کیا تھا۔پاکستان اس کے بعد ہی نیند سے جاگا اور وہاں پہنچا۔اب سیاچن پر زیادہ بلندی پر ہونے کے باعث ہندوستان کو افواج رکھنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔پاکستان اگر سیاچن پر ہندوستان سے کشمیر پرکچھ لئے بغیر معاملہ کرتا ہے تو اس سے ہندوستانی معیشت جسکا سیاچن پر بے انتہا اخراجات سے خون رس رہا ہے کی خلاصی ہو جائے گی جو پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر یک طرفہ سیزفائر کر کے اور اب سیاچن پر ہندوستان کی جان چھڑا کر اسے چین کے خلاف یکسو ہونے کا موقع دیں گے۔ ہم نیجمہوریت کا گلا گھونٹ کر آمریت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے کہ ہرنئی پالیسی اور قانون کے لیے منٹوں میں کابینہ سے بل پاس کرا کر آرڈیننسوں کوجاری کر دیا جاتا ہے۔ ایسا کب تک چلے گا؟ کبھی صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے تو کبھی انہونی پالیسیوں کا۔ جب تک ہم پاکستان کے نظریے سے ہم آہنگی رکھنے والی پالیسیاں اور قوم کے مفاد میں قانون سازی نہ کریں گے معاملات درست نہ ہونگے۔ حکومت کے ایسی عاقبت نا اندیشانہ پالیسیاں ہمیں کئی دہا ئیوں تک بھگتنی پڑیں گی۔ ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں سے بھی نہیں کھلتیں۔
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بختِ خفتہ کو بیدار قوموں نے
بشکریہ :روزنامہ جنگ


