
اسلام آباد(وقائع نگارخصوصی)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنادی۔عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے 4 ماہ کے ٹرائل کے بعد 2 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا وہ فیصلہ سنا دیا ۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت کمرہ عدالت میں وکلا، تھراپی ورکس کے ملازمین، مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم، والد ذاکر جعفر کے علاوہ مدعی مقدمہ شوکت مقدم موجود تھے۔عدالت نے مختصر فیصلے میں ظاہر جعفر کو قتل عمد کے سلسلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی اور نور مقدم کے ورثا کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔فیصلے کے مطابق ملزم کی سزائے موت کی توثیق اسلام آباد ہائی کورٹ کرے گی۔اس کے علاوہ دفعہ 364 (قتل کی غرض سے اغوا) کے تحت ملزم کو 10 برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے، دفعہ 342 (حبسِ بیجا) کے تحت ایک سال قید، دفعہ 376 (زنا بالجبر) کے تحت 25 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔مزید برآں قتل اور دیگر جرائم میں اعانت پر فیصلے میں شریک ملزمان جان محمد (باغبان) اور افتخار (چوکیدار) کو 10، 10 سال قید کی اور ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔البتہ عدالت نے تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور سمیت تمام ملازمین، مرکزی ملزم کے والدین عصمت آدم اور ذاکر جعفر کو بری کردیا۔



