وقت آگیا ہے کہ بھارت سے برائہ راست تجارتی تعلقات بحال کئے جائیں، عبدالرزاق دائود

اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ تجارت کو معمول پر لانا پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی ضرورت ہے۔ بھارت سے سستا خام مال مل سکتا ہے۔ آلو کی وافر مقدار میں برآمدگی کاشت کاروں کو بھاری نقصان سے بچا سکتی ہے۔
عبدالرزاق داد کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی وقت کی ضرورت ہے۔ سال بھر قبل کچھ عملی اقدامات اس بابت انھوں نے کیے تھے۔ انھوں نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے بھارت سے کپاس اور چینی کی درآمد منظور کروائی تھی۔ تاہم، سیاسی کشیدگی کے باعث کچھ کابینہ اراکین پیچھے ہٹ گئے تھے۔ تاہم حالیہ بیان سے لگ رہا ہے کہ کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت متحدہ عرب امارات کے راستے سے جاری ہے۔تاہم، تیسرے ملک کے واسطے سے برآمدگی مہنگا سودا ہے۔
عبدالرزاق دائود کا کہنا تھا کہ دوسری جانب پاکستان کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس کے لیے کم قیمت میں خام مال درکار ہے۔ بھارت سے یہ خام مال ملنا ممکن ہے۔ درآمدات کے ساتھ ساتھ بھارت ہماری برآمدات کے لیے بھی موزوں ہے۔ ہم اپنی فاضل زرعی پیداوار بھارت کو برآمد کرسکتے ہیں۔ رواں سال آلو کی شاندار فصل ہوئی ہے۔ تخمینے کے مطابق فصل کی 4 ملین ٹن پیداوار زیادہ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آلو کی فصل کو برآمد نہ کیا گیا تو کاشتکاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بھارت میں آلو کی قلت ہے۔ اس ضمن میں آلو بھارت برآمد کرنا پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جتنی جلدی یہ تعلقات بحال ہوں دونوں ممالک اتنا جلد ہی اس کے فوائد سے مستفید ہوں گے۔