
لاہور: حکومت کی جانب سے اسمبلی حال کی عمارت کو تالے لگائے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا ایک ہوٹل میں اجلاس ہو ا جس میں مسلم لیگ ن کے رہنماء پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے چھ اپریل کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر رکھا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی جبکہ اپوزیشن نے سپیکر پنجاب اسمبلی اور حکومت کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الہٰی کے خلاف عدم اعتماد لے آئی ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے اجلاس طلب کئے جانے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے انہیں معطل کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی عمارت تو تالے لگادئیے گئے ہیں اور خاردار تاریں لگا کر ارکان کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس پر اپوزیشن کی جانب سے پنجا ب اسمبلی کا علامتی اجلاس ایک ہوٹل میں منعقد کیا گیا ہے جس میں مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز کو وزیراعلٰی منتخب کر لیا گیا ہے۔
مقامی ہوٹل میں ہونے والے علامتی اجلاس میں اپوزیشن اتحاد، جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان گروپ کے ارکان نے شرکت کی۔علامتی اجلاس میں حمزہ شہباز کو وزیراعلی منتخب کرنیکی قرارداد پیش کی گئی جس پرارکان نے کھڑے ہو کر قرارداد کی منظوری دی۔
199 ارکان نے قرارداد کے حق میں کھڑے ہو کر حمایت کی۔ اس موقع پر ہال وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کے نعروں سے گونج اٹھا۔
اس سے قبل مریم نواز بھی حمزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے مقامی ہوٹل پہنچی تھیں۔ اس دوران انہوں نے بس میں بھی ارکان اسمبلی کے ہمراہ سفر کیا اور اجلاس کیلئے مختص ہوٹل گئیں۔
دوسری طرف حکومت نے اپنی ہی ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق ڈپٹی اسپیکرکیخلاف جب عدم اعتماد آچکی ہوتووہ کسی اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے، آئینی طورپرڈپٹی اسپیکرکسی بھی اجلاس کی صدارت کے مجازنہیں۔ترجمان پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ اگرڈپٹی اسپیکر ایساکریں گے تو آئین کی خلاف ورزی کیمرتکب ہوں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پہلے 6 اپریل کو ہونے والا اجلاس 16 اپریل کو بلانے کا اعلامیہ جاری کیا اور پھر رات دیر گئے اجلاس کی تاریخ دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے 6 اپریل کی۔مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔آج حکومت نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی اور ساتھ ہی پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ پنجاب اسمبلی کا علامتی اجلاس نہیں ہے ۔ممبران حاضر ہوں تو اجلاس کہیں بھی ہوسکتا ہے اس اجلاس کے نتیجے میں حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ہیں۔



