وزارت چل نہیں رینگ رہی ہے ، ایک سابق ایم ڈی کے سب کی کارکردگی صفر ہے
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل دونوں کمپنیوںکے حوالے سے شدید تشویش رکھتے ہیںبطور خاص سوئی سدرن گیس کمپنی کے نقصانا ت ناقابل برداشت حد کو چھو چکے ہیں

اسلام آباد (رپورٹ: ناصر جمال) وفاقی حکومت نے انتہائی مایوس کن کارکردگی پرسوئی گیس کمپنیوں کے بورڈ اور مینجمنٹ ہٹانیکا اصولی فیصلہ کرلیا ہے دو ماہ گذرنے کے باوجود اس ضمن میںسست روی پر بااثر حکومتی شخصیا ت شدید ناراض ہیں انہوں نے وزیر پٹرولیم کو تاکید کی ہے کہ وہ اس پر فوری لائحہ عمل بنائیں اور اعلی سیاسی اور حکومتی شخصیات کو اس حوالے سے دس روز کے اندر حتمی رپورٹ پیش کریں ۔ بورڈ اور مینجمنٹ کے اندرپروفیشنل اورمنجھے ہوئے افراد لگائے جائیں جو کہ دونوں کمپنیوں کے مینڈیٹ کے مطابق ڈیماند اور سپلائی کا مضبوط اور مربوط نظام وضع کریں۔
انتہائی معتبر ذرائع کیمطابق ایک اہم حکومتی اور سیاسی شخصیت نے وزیر پٹرولیم مصدق ملک سے گزشتہ روز ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں کہا کہ آج دو ماہ سے زیادہ کا وقت گذ رچکا ہے اب جبکہ داخلی محاذ پر چیزیں پرسکون ہو رہی ہیںتودونوں گیس کمپنیوں میں فوری طور پر تطہیر اور شفافیت کا عمل تیز کریں۔ دونوں بورڈ ز اور پیرا شوٹرز مینجمنٹ کیحوالے سے شکایات نان پروفیشنلز م اور باہمی لڑائیوںکا نوٹس لیں۔ بااثر شخصیت کا کہنا تھا کہ چار سال گذرنے کے باوجود بھی وزارت پٹرولیم آج پہلے سے بھی پیچھے چلی گئی ہے جس کو دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے ۔ وہی ایشوز ہیں اور وہی ماحول ہے۔ وزارت چل نہیں رینگ رہی ہے ۔ان کاکہناتھا کہ یو ایف جی پر کمپنیوں کا بیانیہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیںہے ۔مسلم لیگ( ن) نے کمپنیوںکی کیپٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی تھی تاکہ یہ کمپنیاں اپنے پائوں پر کھڑی ہو ، خسارے کم ہو اور غیر تخمینہ شدہ گیس( یو ایف جی ، چوری) کے عنصر کی شدید حوصلہ شکنی ہو۔کمپنیوں میںمیرٹ کانظام ہو تاکہ یہاںپر کام کرنے والے افسر اور ورکر پھلے پھولیں۔مگر اس کے برعکس چارسالوںمیں حالات پہلے سے زیادہ سنگین اور بدتر ہوئے ہیں، اس شخصیت کا کہنا تھا کہ ماسوائے ایک سابق ایم ڈی کے سب کی کارکردگی صفر ہے ۔ وزارت کو گمراہ کن ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے جو کے حقائق کے برعکس ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تینوں وزرا وزارت پٹرولیم کی تاریخ کے ناکام ترین وزیر تھے ، حماد اظہر جو خود کو بہت بڑا وکیل بتاتے ہیںکیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اب تک فیس کتنی لی ہے ۔اور کتنی فائلوں پر ان کے دستخط ہیں انہوںنے کتنے فیصلے کیے۔بدقستمی سے ان کے ایک بھی فائل پر دستخط نہیںہیں، پچھلے حکمرانوں کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گیس کمپنیوںمیںبطور خاص پیر اشوٹرز ایم ڈی لگانے کے شدید مضرات سامنے آئے ہیں ۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پٹرولیم پہلے مرحلے میں دونوںکمپنیوںکے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی حکومتی نامزدگیاں واپس لے گی۔پرائیویٹ ممبرزبدستور کام کرتے رہیں گے جبکہ حکومت نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے نئے لوگوں کو نامزد کرے گی جبکہ دونوں کمپنیوں کے بورڈ ز کی کارکردگی ان کی مائیکرو مینجمنٹ میں مداخلت ،یو ایف جی کمپنی کو قواعد وضوابط کے مطابق نہ چلانے کے حوالے سے بریفنگ طلب کر لی گئی ہے ۔ جبکہ کمپنیوںکے ملازمین کی بے چینی اور ہائر مینجمنٹ کے غلط فیصلوںکے باعث ہونے والے نقصانات پر بھی رپورٹ طلب کی ہے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی عمران منیار، ڈی ایم دی فاروقی اور وسیم خان کے کانٹریکٹ ختم کیے جانے کا قوی ترین امکان ہے ، کیونکہ سوئی سدرن گیس کمپنی عملا ڈوب چکی ہے اور اسے دوسری سٹیل مل بننے سے روکنا مقصود ہے جبکہ ایم ڈی سوئی نادرن کے مستقبل کا فیصلہ ان کی کارکردگی سے مشروط ہونیکے ساتھ ساتھ ان کا اعلی سطح انٹرویو بھی ہے جبکہ انکی تقرری کیدوران جو حالات وواقعات پیش آئے اس کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ انہیں اچانک سوئی سدرن کے بجائے سوئی نادرن کا ایم ڈی کیوںلگایا گیاجبکہ ان کے اور بورڈ کے درمیان مسائل دو ہزار اکیس اور بائیس کمپنی کے حسابات ،مستقبل کے منصوبہ جات اور تمام چیزیںمد نظر رکھی جائیں گی ۔
معتر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل دونوں کمپنیوںکے حوالے سے شدید تشویش رکھتے ہیںبطور خاص سوئی سدرن گیس کمپنی کے نقصانا ت ناقابل برداشت حد کو چھو چکے ہیں اور وہ قومی خزانے کے لیے مکمل بوجھ بن چکی ہے ۔دوسری جانب ایس ای سی پی نے بورڈز کے اجلاس کے منٹس صحیح طورپر ریکارڈ نہ کروانے پر چیئرپرسن بورڈز و دیگر ذمہ داران کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کیا ہے یہ ایک تشویشناک اور انتہائی گھمبیر صورتحال ہے۔ کہ بورڈ کے ممبران سے اختلاف اور مسائل کی نشاندہی کے معاملات ، سوالات، بورڈز میٹنگ منٹس کا حصہ نہیں بنائے جارہے۔
۔۔۔۔۔



