تخت لاہور کے حصول کے لئے جنگ آخری مرحلے میں داخل

فریقین کے ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اور کامیابی کے دعوےٰ


لاہور :حمزہ شہباز شریف اور پرویز الہٰی کے درمیان تخت لاہور کے حصول کے لئے جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ فریقین کامیابی کے متضاد دعووں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات بھی لگا رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز جو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب کی نشست پر براجمان ہیں انہیں پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ۔جبکہ پنجاب اسمبلی کے موجودہ سپیکر پرویز الہٰی اور مسلم لیگ ق کے رہنماء چودھری پرویز الہٰی تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار ہیں۔
اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی لیکن انہوں نے حمزہ شہباز کی بجائے چودھری پرویز الہٰی کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم لیگ ق وزیراعلیٰ کے انتخاب میں چودھری پرویز الہٰی کی حمایت کرے گی۔
وزارت اعلیٰ کے حصول کے لئے کسی بھی امیدوار کو ایوان میں موجود کل ارکان کے نصف سے زائد 186 ارکان کی حمایت درکار ہے ۔تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 188 ارکان موجود ہیں لیکن ساتھ ہی وہ مخالف جماعتوں پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ان کے ارکان کو 25 پچیس کروڑ کی آفریں کی جارہی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماء فواد چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے رحیم یار خان سے ایک رکن مسعود مجید 25 کروڑ لے کر ترکی جاچکے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے دعویٰ ہے کہ آزاد رکن چودھری نثار بھی عین وقت پر ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔فریقین نے اپنے اپنے ارکان کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلز میں کمرے بک کرالئے ہیں اور ارکان کو کڑی نگرانی میںرکھا جارہا ہے کہ کہیں کوئی رکن ادھر ادھر نہ ہو جائے اور پارٹی کے لئے مسائل پیدا نہ ہوں۔
(ن) لیگ اور اتحادی اراکین کو ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل میں ٹھہرا دیا گیا جس کے لئے 180 کمرے بک کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ق لیگ نے مال روڈ کے ہوٹل میں ڈیرہ ڈال لیا ہے جہاں 200 کمرے بک کرا کے عددی حیثیت ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ساتھ ہی تمام اراکین کو گھر چھوڑ کر ہوٹل پہنچنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔