آرمی چیف تقرری فیصلہ وزیراعظم کریں گے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو

ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، وزیر خارجہ کا امریکن میگزین کو انٹرویو


اسلام آباد:وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف ( Army Chief Of Pakistan ) کی تقرری کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے ایڈیٹر انچیف کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کا اختیار ہے اور اس کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف آئین اور قانون کے مطابق کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امداد کی پیشکش نہیں کی گئی، ہم بھی بھارت سے مدد نہیں چاہتے ہیں۔
دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان جنگ سے تمام ہمسایہ ممالک متاثر ہوئے، پاکستان پرامن افغانستان چاہتا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے۔ ، چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی، امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ امریکا سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔
ایک سوال پر صحافی نے پاکستان کے نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق پوچھا تو بلاول بھٹو زرداری نے بال وزیراعظم کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کا ہے، آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف آئین اور قانون کے مطابق کریں گے۔
انہوں نے کہا پاکستان کے تمام ادارے خود مختار ہیں، جمہوریت جیسی بھی ہو آمریت سے بہتر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم جمہوری روایات پر یقین رکھتے ہیں، ملک کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ معیشت کی بحالی کیلئے سخت فیصلے کیے، ہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔
سیلاب ( Flood- 2022 ) کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے۔