14 سالہ طالبہ گان لِن نے اپنے جیب خرچ سے سیلاب متاثرین کے لئے قریبا سات ہزار روپے سفارتخانے کو خط کے ساتھ بھیجے
اگرچہ آپ بہت ہی چھوٹی ہو لیکن اپنی عمر سے کہیں زیادہ سخی ہو آپ کے الفاظ اور جذبات نے بہت متاثر کیا ،آپ کے فراخ دلانہ عطیہ کے شکرگزار ہیں،پاکستانی سفیر کا جوابی خط

نان چھانگ (شِںہوا) چین کے مشرقی صوبہ جیانگ شی کی رہائشی 14 سالہ طالبہ گان لِن کو ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ سے معلوم ہوا کہ پاکستان سیلاب سے متا ثر ہوا ہے، تو وہ مدد کیلئے بے چین ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ 2008 میں چین کے صوبہ سیچھوان کے علاقے وین چھوان میں شدید زلزلہ آیا تھا اور 2020 کے آغاز میں چین کو نوول کرونا وائرس وبا کا سامنا کر نا پڑ ا تو اس وقت پاکستانی شہریوں نے چین کی بہت مدد کی تھی۔
ایک پرانی چینی کہاوت ہے، مشکل گھڑی میں کام آنے والاہی حقیقی دوست ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے بھی اپنے ” آہنی دوستوں” کے ساتھ چھوٹا سا تعاون کیا۔انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کا پتہ معلوم کرنے میں ان کی مدد کریں۔ انہوں نے چین میں پاکستانی سفیر معین الحق کو لکھے گئے ایک خط کے ساتھ 200 یوآن (تقریبا 6 ہزار88 پاکستانی روپے) اس امید کے ساتھ عطیہ کئے کہ پاکستانی عوام اس آفت پر قابو پاکر اپنے گھروں کی تعمیر نو کریں گے۔
گان لِن کے والد گان وان چھانگ کے مطابق، گان عمومی طور پر ایک بہت ہی کفایت شعار بچی ہے، اس کے پاس عطیہ کے لئے 100 یوآن مالیت کے صرف 2 نوٹ مو جود تھے۔
خط ارسال کرنے کے نصف ماہ سے بھی کم عرصے میں گان کو پاکستانی سفیر معین الحق کا جواب موصول ہوا۔ جس میں لکھا تھا کہ ” آپ کے بہت ہی پیارے خط کے لئے آپ کا شکریہ، میں واقعی بہت متاثر ہوا ہوں، اگرچہ آپ بہت ہی چھوٹی بچی ہو لیکن آپ بہت سخی ہو۔ پاکستان میں سیلاب زدگان بارے آپ کے الفاظ اور جذبات نے واقعی ہمیں متاثر کیا۔ہم آپ کے فراخ دلانہ عطیہ کے شکرگزار ہیں، یہ ہمارے لئے بہت معنی رکھتا ہے اور سیلاب زدگان کے کام آئے گا”۔
خط نے 14سا لہ لڑکی کو حیران کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہی نہ آیا کہ سفیر نے انہیں جوابی خط لکھا ہے۔ سفیر نے انہیں بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔
گان ان دنوں سینئر ہائی اسکول میں داخلہ امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ میں اپنے پسندیدہ اسکول میں داخلہ کے بعد ہی بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ جاسکوں گی۔گان نے کہا کہ ” یہ اس سے بھی بہتر ہوگا کہ انہیں پاکستان کے خوبصورت مناظر اور مقامی رسم ورواج سے لطف اندوز ہونے کے لیے دورہ پاکستان کا موقع مل سکے۔وہ اپنی تعلیم میں مصروف ہیں اور جب وہ اس سے فارغ ہوں گی تو پاکستان کی تاریخ اور ثقافت بارے مزید جاننا چاہیں گی۔گان نے مسکراتے ہوئے کہا "چین پاکستان دوستی سدا زندہ رہے گی”۔



