جہاں حکومتی اتحادی جماعتیں ، وکلاء تنظیمیں فل کورٹ کا مطالبہ کر ہی ہیں وہیں پی ٹی آئی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں
ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں فل کورٹ پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ صرف اور صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہیں
چیف جسٹس کو ساتھی ججز پر اعتبار نہیں یا وہ انہیں اس کا اہل نہیں سمجھتے یا وہ پہلے سے فیصلہ کر چکے ہیں اور انہیں خوف ہے کہ ساتھی ججز ان کا ساتھ نہیں دیں گے

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک)پنجاب اور خیبر پختون خوا میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے سپریم کورٹ میںجاری سماعت کے دوران آج (پیر ) کو اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں فل کورٹ کی استدعا کریں گے اور فل کورٹ کی یہ استدعا منظور نہ کئے جانے کی صورت میں حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ فل کورٹ کے حوالے سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ وکلاء تنظمیں اور معاشرے کے دیگر کئی طبقے بھی عدالت سے استدعا کر چکے ہیں کہ وہ ماحول میں موجود ٹینشن ختم کرنے کے لئے فل کورٹ بنادیں تاکہ کسی کو بھی سپریم کورٹ جیسے معزز ادارے کے خلاف بات کرنے یا انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے ۔ لیکن ان سب مطالبات کے باوجود اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے فل کورٹ کا مطالبہ تسلیم کیا جائے گا۔
اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ آخر چیف جسٹس آف پاکستان فل کورٹ بنانے سے گریزاں کیوں ہیں؟ ملین ڈالر کا یہ سوال اس وقت ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے ۔
ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں فل کورٹ پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ صرف اور صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہیں ۔ان کا یہ موقف کہ فل کورٹ اس لئے نہیں بنائی جاسکتی کہ عدالت میں اور بھی کئی کیسز ہیں لیکن انہیں کون سمجھائے کہ یہ کوئی معمولی کیس نہیں یہ پاکستان اور خود سپریم کورٹ کے مستقبل اور اس کی عزت و ساکھ کے حوالے سے بھی اہم کیس ہے
سوال یہ ہے کہ کیا چیف جسٹس کو ساتھی ججز پر اعتبار نہیں یا وہ انہیں اس کا اہل نہیں سمجھتے یا وہ اس کیس کے حوالے سے پہلے ہی کوئی ذہن بنا چکے ہیں اور انہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ ساتھی ججز اس فیصلے میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ۔اگر چیف جسٹس نے اپنی اور ادارے کی ساکھ کو بچانا اور اس میں اضافہ کرنا ہے تو انہیں آج فل کورٹ کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔
ماضی میں بھی اسمبلیوں کی تحلیل اور دیگر اہم آئینی کیسز میں فل کورٹ بنتے رہے ہیں اس روایت کو سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے توڑا اور سپریم کورٹ میں گروپنگ کو ہوا دی پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور اب تک جاری ہے ۔لیکن سجاد علی شاہ کے خلاف جب لاوہ بہت پک کر پھٹ گیا تو ساتھی ججز نے انہیں ماضی کے ان کے اپنے ہی فیصلے کی روشنی میں چیف جسٹس کے عہدے سے الگ کر دیا ۔اس عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی انہوں نے استعفیٰ دینا مناسب نہیں سمجھا اور عا م ججز کی حیثیت سے ہی کام کرتے رہے اور ساتھ ججز کا فیصلہ تسلیم کر لیا۔

