اعظم نذیر تارڑ کے تہلکہ خیز انکشافات اور اسٹیبلشمنٹ کی نیوٹریلٹی ؟

باوجوہ اسٹیبلمشنٹ سے بھی ہاتھ کر گئے؟ ادارے کونیوٹرل رہنے کی یقین دہانی اور مداخلت جاری
جاوید ہاشمی اور شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات کے باوجود اسٹیبلمشنٹ اپنی روش سے باز آئی نہ حکومت نے سبق سیکھا
ججز تقرری پر شہباز شریف نے دبائو کیوں قبول کیا ،کمزور وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ کیوں ہوتا ہے
شہباز حکومت نے نہ صرف وکلاء اور وزیر قانون کو ناراض کیا بلکہ حقداران کا حق بھی مار ا جس کا نتیجہ سامنے آنا تھا

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک)
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے اس انکشاف نے تہلکہ مچاد یا ہے کہ سپریم کورٹ میں جونئیر ججز کی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر کی گئی ۔ حالانکہ وہ خود، تمام وکلاء تنظیمیں اور تمام بار کونسل بھی جونئیر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف تھیں لیکن اس کے باوجود شہباز شریف نے اسٹیبلمشنٹ کی رہنمائی (یادبائو) کے آگے ہاتھ ڈال دئیے لیکن گھتی سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گئی۔ جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ میں ان جونئیر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف تھا جو آج چیف جسٹس کو کور دے رہے ہیں۔اسی لئے استعفیٰ بھی دیا تھا۔
ان کے اس انکشاف نے تہلکہ مچا دیا کہ حکومت نے مجھے اور وکلاء تنظیموں کو ناراض کر کے اسٹیبلمشنٹ کی ہدایت پر جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا اور مجھے بتایا گیا کہ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کہ چیف جسٹس سے تعلقات بہتر کئے جاسکیں کیونکہ مذکورہ جونئیر ججز کے نام چیف جسٹس عمر عطابندیال کی جانب سے آئے تھے اور ساتھ اسٹیبلمشنٹ کی جانب سے کہا گیا کہ جونئیر ججز کو تعینات کر کے آپ عدلیہ سے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی فائد ہ نہ ہوا۔
سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسٹیلشمنٹ جو بحثیت ادارہ فروری 2022 ء میں نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر چکی تھی اس کے سربراہ کس حیثیت میں حکومتی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے۔ انہوں نے ادارے کے اجتماعی فیصلے کے خلاف جانے کی جرات کیوں کی۔
ان حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ جب بھی دبائو میں کسی حقدار کا حق سلب کرتے ہیں تو درحقیقیت وہی فیصلے جو آپ اپنے بچائو کے لئے کر رہے ہوتے ہیں وہی آپ کے گلے کا پھندا ثابت ہوتے ہیں میا ںشہباز شریف سے بھی یہی غلطی ہوئی انہوں نے نہ صرف وکلاء اور وزیر قانون کو ناراض کیا بلکہ حقداران کا حق بھی مار ا جس کا نتیجہ سامنے آنا تھا۔
افسوس عوامی حکومت نے معروف سیاستدان اور تحریک انصاف کے ماضی کے سیکرٹری جنرل جاوید ہاشمی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے عدلیہ میں خرابی اور اسٹیبلمشنٹ زدہ عدلیہ کے حوالے سے انکشافات کے باوجود ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا اور بہتری کی امید پر حقداران کا حق مارتے رہے جس کا نتیجہ آج بھگت رہے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ حکومت جونئیر ججز کی تعیناتی میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں نشان عبرت بنائے تاکہ آئندہ کسی کو عوامی جذبات سے کھیلنے کا موقع ملے نہ جرائت ہو۔
ان کرداروں کوبھی بے نقاب کرنے اور قانون کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے جنہوں نے پروجیکٹ عمران کی صورت میں ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور غلطی سامنے آنے کے بعد بحثیت ادارہ نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود اس پر عمل کیوں نہ کیا۔