کامسٹیک کی بنیادی توجہ سب سے کم ترقی یافتہ رکن ممالک کی مدد پر ہے،اقبال چودھری

 

دنیا کو پائیدار ترقی کی طرلے جانے کے لیے تبدیلی کی ضرورت ہے ، کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کا اقوام متحدہ کی سائنس سمٹ سے خطاب

اسلام آباد: کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ کامسٹیک کی بنیادی توجہ سب سے کم ترقی یافتہ رکن ممالک کی مدد پر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا
او آئی سی ممالک کو متعدد چیلنجز جن میں غذائی عدم تحفظ، غربت، نوجوانوں کی بے روزگاری، خواتین کی ناخواندگی اور پانی کی کمی شامل ہیں۔ مسلم ممالک موسمیاتی تنا ئوکا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ مزید برآں، وہ اسلامو فوبیا اور عدم اعتماد جیسے مسائل کا سامنا بھی کررہے ہیں۔
اس سمٹ کا اہتمام آئی ایس سی انٹیلی جنس نے کیا تھا، یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلیوں کے دوران عالمی سائنس تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔اپنے خطاب میں، کوآرڈینیٹر جنرل نے سائنس میں آئی ایس سی انٹیلی جنس کے منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر ڈیکلن کرینے کا شکریہ ادا کیا، جو کہ عالمی سائنس تعاون کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلیوں کے دوران سائنس سمٹ کی میزبانی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کامسٹیک کی بنیادی توجہ سب سے کم ترقی یافتہ رکن ممالک کی مدد پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں کامسٹیک کے اقدامات میں زراعت کو فروغ دینا، امراض چشم اور نیورولوجی میں ہیلتھ افریقہ پروگرام، لیبارٹریز اور اداروں کا قیام، متعدد اسکالرشپس اور فیلوشپس کی پیشکش شامل ہے۔
کوآرڈینیٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی مئی 2023 کی رپورٹ میں 2030 تک 17 پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں رکاوٹوں کو نمایاں کیا گیا ہے، خاص طور پر گلوبل ساتھ کے لیے۔ انہوں نے دنیا کو پائیدار ترقی کی طرلے جانے کے لیے تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
پائیدار ترقی کے اہداف کو مثر طریقے سے حاصل کرنے کے لیے، انہوں نے چار تجاویز پیش کیں۔ جن میں اول، بین الاقوامی تعاون میں محققین کی حقیقی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ میں تفاوت کو دور کرنے کی ضرورت ۔ دوم، کامسٹیک پائیدار ترقی کے لئے ایک نئے ہدف "عالمی تحقیقی تعاون” کے قیام کی سفارش۔ سوئم، تحقیقی تعاون اور علم کا اشتراک، جدت کا فروغ ، مہارت سے فائدہ اٹھانے، اور تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔ اور چہارم، سائنسی برادریوں کو پائیدار ترقی کے اہداف کی کمی کو دور کرتے ہوئے، 2030 کے بعد کے ایجنڈے کو مزید سائنس پر مبنی بنانے کے لیے فوری تیاری کی ضرورت ہے۔
پروفیسر چودھری نے اپنی تقریر کا اختتام پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ سے متعلق سائنسی اور تکنیکی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے چیلنجز اور طریقہ کار پر بحث کرنے اور ان کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک فورم کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامسٹیک اس کام کے لئے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامسٹیک عالمی چیلنجزکے حل کے لیے تحقیق میں مسلم دنیا کی سائنس کمیونٹی کو شامل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔