ہلاک ہونے والے اسرائیلوں میں پچاس فوجی اور تیس پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،حماس نے 100 فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے
امریکہ اور یورپ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگئے،ایران، عراق اور ترکیہ میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے

غزہ : اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جھڑپوں میں آخری اطلاعات تک 1000 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہو چکی تھیںجبکہ دونوں طرف سے پانچ ہزار کے قریب افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے جاری یہ تنازع گزشتہ روز سب سے خونریز کشیدگی کی صورت اختیار کرگیاحماس کے اسرائیل پر حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 600 سے زائد ہو چکی ہے جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے گزشتہ 50سالوں میں پہلی بار اعلان جنگ کردیا ہے۔
حماس کے حملوں میں پچاس کے قریب فوجی اور تیس پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حماس نے سو سے زائد فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے پریس آفس سے جاری بیان میں بھی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل میں اب تک 600 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 100 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک 370 افراد مارے جا چکے ہیں اور 2200 سے زائد زخمی ہیں۔
1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد سے یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایک طویل اور مشکل جنگ کا سامنا ہے۔
اتوار کو اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی افراج نے ہماری حدود میں داخل ہونے والی دشمنوں کی افواج کی بڑی تعداد کو تباہ کردیا ہے اور اب اس نے اپنی جارحانہ کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے اور جب تک ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوجاتا، اس وقت تک یہ کارروائیاں کسی روک ٹوک کے بغیر جاری رہیں گی۔
ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ کو بدتین بمباری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی منزلہ عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی علاقوں کو بجلی، ایندھن اور اشیائے خورونوش کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے جبکہ حزب اللہ کی جانب سے حماس سے اظہار یکجہتی کے لیے مارٹر گولے داغے جانے کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بھی فضائی کارروائی کی ہے۔
نیتن یاہو نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم ایک طویل اور مشکل جنگ کا آغاز کر رہے ہیں جو ہم پر حماس کے قاتلانہ حملے کے ذریعے تھوپی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ اس وقت ہمارے علاقے میں گھسنے والی دشمن قوتوں کی اکثریت کی تباہی کے ساتھ ختم ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ہی ہم نے جارحانہ مرحلہ شروع کر دیا ہے، جو مقاصد کے حصول تک بغیر کسی حد اور مہلت کے جاری رہے گا، ہم اسرائیل کے شہریوں کا تحفظ بحال کریں گے اور ہم جیتیں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم نے خبردار کیا تھا کہ برائی کے اس شہر میں وہ تمام مقامات جہاں حماس موجود ہے، وہ تمام جگہیں جہاں حماس چھپی ہوئی ہے اور یہ سب کر رہی ہے، ہم اس کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیں گے۔
امر یکہ بھارت اور یورپ کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگئے،ایران، عراق اور ترکیہ میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
آخری خبریں آنے تک اسرائیل کے آٹھ شہروں میں لڑائی جاری تھی۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اسرائیل کے مقابلے میں حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
دریں اثنا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق اور عوام پر غاصبانہ قبضے اور ظلم و ستم کی مذمت کے بغیر امن کی طرف پیش رفت ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی زمین کے مسلسل الحاق، غیر قانونی بستیوں، غیر متناسب ردعمل اور قتل عام کا نتیجہ امن کی جانب ناامیدی اور عدم پیش رفت ہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آگے بڑھا جائے، اس وقت عالمی برادری عالمی امن کی جانب بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ پاکستان کو مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی دشمنی اور معصوم جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں اور اسرائیلی قابض افواج کے تشدد اور جبر کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جرمن چانسلر اولاف شولز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جرمنی حماس کے ان حملوں کی مذمت کرتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے حملوں اور بڑھتی ہو ئی کشیدگی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی لوگوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔
کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اسرائیل پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ تشدد کی یہ کارروائیاں مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے دفاع کے اس کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہمارے خیالات اس سے متاثر ہونے والے ہر شخص کے ساتھ ہیں۔
برطانیہ حماس کی جانب سے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ برطانیہ ہمیشہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرے گا۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا کہ میں حماس اسرائیل کے خلاف کیے جانے والے حملے کی واضح طور پر مذمت کرتی ہوں۔ یہ اپنی انتہائی گھنانی شکل میں بقول ان کے دہشت گردی ہے۔
خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا کہ ہم حماس کے حملوں کی واضح طور پر مذمت کرتے ہیں۔ یہ ہولناک تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ دہشت گردی اور تشدد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کہا ہے کہ روس اسرائیل، فلسطینیوں اور عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے سلسلے میں رابطے میں ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسرائیل پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق پر شک نہیں کیا جا سکتا۔
پولینڈ کے صدر آندریج ڈوڈا نے کہا کہ پولینڈ تشدد کی تمام کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں سے صدمے میں ہوں۔
جمہوریہ چیک کے صدر پیٹر پاویل نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی سے کیا جانے والا حملہ اسرائیلی ریاست اور شہری آبادی کے خلاف حملہ ہے جو قابل مذمت عمل ہے۔راکٹ حملے اور حماس کے کمانڈوز کی اسرائیل میں دراندازی فلسطینی اسرائیل تنازع کے پرامن حل کی کسی بھی کوشش کو طویل عرصے تک روک دے گی۔
اطالوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم جارجیا میلونی کی صدارت میں آج اسرائیل میں پیدا ہونے والی ڈرامائی صورتحال پر ایک اجلاس منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ ملک میں یہودی برادری کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
کینیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہم ان حملوں کے منصوبہ سازوں، فنڈز فراہم کرنے والوں اور عمل درآمد کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ کینیا کی وزارت خارجہ کے پرنسپل سیکریٹری کوریئر سنگوئی نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے لیکن اس افسوسناک پیش رفت کو حل کرنے کے لیے پرامن راستے پر زور دیا جانا چاہیے۔



