او آئی سی سائنسدانوں کے لئے ویکسین کی تحقیق اور تیاری کا تربیتی کورس جکارتہ میں شروع

اسلام آباد، 4 جولائی کامسٹیک نے انڈونیشیا کی وزارت صحت، پی ٹی فارما، اور پجاجرن یونیورسٹی، سینٹر آف ایکسی لینس برائے ویکسین اور بائیو ٹیکنالوجی مصنوعات، کے ساتھ مل کر وائرولوجی اور ویکسین ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے او آئی سی کے نو رکن ممالک کے 12 محققین کا انتخاب کیا۔تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز جکارتہ میں ایک افتتاحی تقریب سے ہوا۔ یہ تقریب بیک وقت ایک ویکسین اور وائرولوجی ورکشاپ کے ساتھ منعقد کی گئی۔ افتتاحی تقریب میں او آئی سی کے ممبر ممالک کے سفیر اور نمائندے بھی شریک تھے۔
یہ ایک جامع پروگرام ہے، جس میں تربیتی ورکشاپس، صنعتوں کے دورے، اور لیبارٹری کی تربیت شامل ہے۔ زیر تربیت افراد کو جکارتہ میں لیبارٹریوں کا دورہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس پروگرام کا ہدف او آئی سی کے رکن ممالک کے وہ محققین ہیں جو ویکسین کی تیاری میں علم اور مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔یہ پروگرام علم کے اشتراک کو فروغ دینے اور محققین کو وائرولوجی اور ویکسین ٹیکنالوجی میں ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد او آئی سی کے رکن ممالک میں ویکسین کی تحقیق اور تیاری کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔
ایک ماہ طویل اس تربیتی پروگرام کا یہ تیسرا مرحلہ جکارتہ اور بنڈونگ، مغربی جاوا میں منعقد کیا گیا ہے۔ انڈونیشیا، کیمرون، قازقستان، ملائیشیا، مصر، پاکستان، صومالیہ، تنزانیہ اور یوگنڈا کے شرکا اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کے پہلے دو مراحل انڈونیشیا میں 2022 اور 2023 میں کامیابی کے ساتھ انجام پا چکے ہیں۔
اپنے ابتدائی کلمات میں، انڈونیشیا کے وزیر صحت، بوڈی گناڈی سادیکن نے ویکسین کی تیاری میں او آئی سی ممالک کے محققین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اس پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ویکسین کی تحقیق اور تیاری کو ترقی یافتہ ممالک سے آگے بڑھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد عالمی ویکسین کی پیداواری صلاحیت کو زیادہ مساوی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیلو شپ پروگرام انڈونیشیا کی حکومت اور او آئی سی کامسٹیک کے درمیان مشترکہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مستقبل میں وبائی امراض کے دوران ویکسین تک عالمی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔