ترمیم کی منظوری میں مولانا کا کردار اہم تھا وہ خود تو مان گئے لیکن تحریک انصاف کو نہ مناسکے
جسٹس منیب اور جسٹس منصور چیف جسٹس آف پاکستان کی دوڑ سے باہر ہوگئے،میلہ سجایا ہی اس لئے گیا تھا؟
آئینی بینچ میں تمام صوبوں سے برابر ججز ہوں گے، سینئرترین جج آئینی بینچ کا پریزائیڈنگ جج ہوگا ،بنچ کم سے کم پانچ ججز پر مشتمل ہوگا
اسلام آباد(رپورٹ : محمد رضوان ملک)تحریک انصاف کی مخالفت کے باوجود حکومت نے مولانا کو راضی کر کے بالاخر 26 ویں آئینی ترمیمکو منظور کر ہی لیا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس دو دن جاری رہا۔ اتوار کی شام شروع ہونیو الا اجلاس پیر کی صبح پانچ بجے تک جاری رہا ۔ اس سے قبل اتوار کی شام ایوان بالا(سینٹ ) نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی۔ایوان بالا میں ترمیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں صرف چار ووٹ آئے۔
ترمیم کی منظوری کے لئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کردار اہم تھا اور انہیں راضی کرنے میںحکومت کو کئی دن لگ گئے۔ مولانا چاہتے تھے کہ تحریک انصاف بھی آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ دے جس کے باعث تاخیر بھی ہوتی رہی۔ مولانا خود تو مان گئے لیکن تحریک انصاف کے دوستوں (خاص طور پر بانی پی ٹی آئی )کو نہ منا سکے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر قریبا چیف جسٹس آف پاکستان کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اس کا کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔صدر مملکت کے دستخط کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
گزشتہ روز کابینہ کی منظوری کے بعد دونوں ایوانوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی جس میں حکومت نے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت ثابت کی۔کابینہ اور دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دستاویز کو دستخط کے لیے صدر کو بھجوایا تھا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم کے گزٹ نوٹیفکیشن پر دستخط کیے جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
26 ویں آئینی ترمیم نافذ ہونے کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری تین دن قبل ہوگی اور چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام بھیجنے کیلئے 35 گھنٹے کا وقت باقی ہے۔چیف جسٹس 22 اکتوبر رات 12 بجے تک تین نام آئینی کمیٹی کو بھیجنے کے پابند ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان آرٹیکل 175ایکی ذیلی شق 3 کے تحت 3 سینئرججزکے نام پارلیمانی کمیٹی کوبھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا بحثیت چیف جسٹس آف پاکستن تقرر کرے گی۔خصوصی پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس پاکستان کا تقرر کرکے نام وزیراعظم کو ارسال کرے گی اور وزیراعظم چیف جسٹس کے تقرر کی ایڈوائس صدر کو بھجوائیں گے۔
26 ویں آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں شق وار منظوری کیلئے ووٹنگ کروائی گئی، اس دوران 225 ارکان نے تمام 27 شقوں کی شق وار منظوری دی۔
شق وار منظوری کے بعد وزیرقانون نے آئینی ترمیم باضابطہ منظوری کیلئے ایوان کے سامنے پیش کی جس کے بعد ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کی گئی، نوازشریف نے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں سب سے پہلے ووٹ دیا۔اس سے قبل سینیٹ سے منظوری کے بعد وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے قومی اسمبلی سے شق وار منظوری کیلئے آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی تھی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پر ارکان نے کھڑے ہوکر ووٹ کیا، ترمیم کے حق میں 225 ارکان نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان اسمبلی نے ترمیم پیش کرنے کی مخالفت کی۔
قبل ازیں ایوان بالا (سینیٹ ) پہلے ہی اس کی منظوری دے چکا تھا۔ سینٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں 65 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے، حکومت کے 58، جمعیت علمائے اسلام کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔ ترمیم کی شق وار منظوری کے دوران پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبیلو ایم کے ارکان ایوان سے چلے گئے تھے۔
26 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹس کے ججزکی کارکردگی کا جائزہ لے سکے گا۔سپریم کورٹ کے ججزکی تقرری کمیشن کے تحت ہوگی۔کمیشن میں چیف جسٹس، پریزائیڈنگ جج اور سپریم کورٹ کے 3 سینئرموسٹ جج شامل ہوں گے، کمیشن میں وفاقی وزیرقانون، اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کا 15 سال کا تجربہ رکھنے والا وکیل شامل ہوگا، جوڈیشل کمیشن میں سیینٹ اور قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو دو ارکان شامل ہوں گے جب کہ کمیشن میں ایک خاتون یا غیر مسلم رکن بھی ہوگا جو سینیٹ میں بطورٹیکنوکریٹ تقررکی اہلیت رکھتا ہو۔
چیف جسٹس پاکستان کو اسپیشل پارلیمانی کمیٹی نامزد کرے گی اور چیف جسسٹس سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں سے ہوگا، نامزد جج کے انکارکی صورت میں بقیہ 3 سینئرججز میں سے کسی کو نامزد کیا جاسکے گا۔
26 ویں ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ ازخود نوٹس کی بنیاد پرکسی درخواست کے مندرجات سے باہرکوئی حکم یا ہدایت جاری نہیں کریگی۔سپریم کورٹ کسی کیس یا اپیل کو دوسری ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ منتقل کرسکے گی۔
سپریم کورٹ میں آئینی بینچ ہوگا جس میں سپریم کورٹ کے جج شامل ہوں گے اور آئینی بینچ میں تمام صوبوں سے برابر ججز ہوں گے، سینئرترین جج آئینی بینچ کا پریزائیڈنگ جج ہوگا جب کہ آئینی بینچ کے سوا کوئی بینچ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار اور آئین کی تشریح سے متعلق معاملہ نہیں دیکھے گا، آئینی بینچ میں کم ازکم5 ججزہوں گے۔
متعلقہ تمام درخواستیں یا اپیلیں آئینی بینچ کو منتقل کی جائیں گی۔
ہائیکورٹ میں کوئی جج تعینات نہیں ہوگا جوپاکستانی شہری نہ ہو اور 40 سال سے زیادہ عمرنہ ہو، ہائیکورٹس میں بھی آئینی بینچ ہوگا۔سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ اورہائیکورٹ کے 2 دوسینئر ترین ججز ہوں گے۔
کونسل میں اختلاف پراکثریت کا فیصلہ حاوی ہوگا اور کونسل کی انکوئری کے بعد جج کی برطرفی کے لیے صدر کو رپورٹ کی جائے گی۔چیف الیکشن کمشنریا ممبراپنی مدت پوری ہونے پراپنے جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک عہدے پر برقرار رہیں گے۔
جنوری 2018 تک ربا کا خاتمہ کردیا جائے گا۔
کابینہ یا وزیراعظم کے صدرکودیا گیا مشورے پر کسی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹ اوربلدیاتی حکومتوں کے قیام کے الیکشن کے لیے درکار رقم چارجڈ اخراجات میں شامل ہوگی۔




