اسلام آباد آزاد گروپ


تحریر: جاوید انتظار
بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور احتساب کا شدید فقدان ہے۔ جسکی وجہ سے نہ کوئی جماعت خود کو جمعوری ادارہ بنا سکی۔ جسکا نقصان عوام کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں ہوتا رہا ہے۔ اس کمی کو کرشمہ ساز قوت نے اپنی پاور گیم کے مہرے کے طور پر استعمال کیا۔ جس میں عہدہ کسی کے پاس اور اختیار کسی اور کے پاس ہے۔جس سے ملک کی تعمیر و ترقی رک گئی۔ ملک دنیا کے جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ۔ حتیٰ کہ ملکی معیشت اور وفاقی بجٹ بھی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم کے حوالے کر دیا گیا۔ اشرافیہ ، مافیاز ، جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقات نے ملکی وسائل اور قومی دولت پر قبضہ کر لیا ۔ سیاست کو پیسے کی لونڈی بنا کر عام آدمی کو سیاسی امور سرانجام دینے سے دور کر کے ملک کی حقیقی قیادت کا سر عام سیاسی قتل کر دیا گیا ۔ جس کی تازہ ترین مثال سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ محسن اختر کیانی کا وہ پیچیدگیوں سے بھر پور فیصلہ تھا جس میں سی ڈی اے ( کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کو تحلیل کیا گیا۔ اور تمام تر اختیارات ایم سی آئی ( میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام اباد) کے سپرد کر دئیے گئے ۔ جبکہ نومبر 2015 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے ۔ جس کی مدت 2020 میں ختم ہو چکی تھی ۔ ایم سی آئی مقامی حکومت کے فیصلوں کی روشنی میں اپنا دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ 2015 میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کوئی اور جماعت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حق میں نہ تھی۔ لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی بات ماننا پڑی۔ بلدیاتی انتخابات ہوگئے مقامی حکومت بن گئی۔ بلدیاتی نمائندے انتخابات میں کامیابی کے بعد مقامی حکومت کی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ چونکہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نہیں چاہتے تھے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔ مقامی حکومت کی مدت میں پہلے ن لیگ پھر تحریک انصاف سنگھاسن اقتدار پر براجمان تھیں۔ لیکن دونوں جماعتوں کے منتخب بلدیاتی نمائندے اپنے اپنے جماعتی ایجنڈے پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے رہے لڑتے جھگڑتے رہے۔عوامی مسائل پر کوئی سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا جا سکا۔دونوں حکومتوں نے بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کو نہ کوئی اختیار دیا نہ فنڈز فراہم کئے۔ راقم الحروف ناچیز نے 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں اس وقت کی یو سی 30 جی۔ سیون تھری سے بطور امیدوار برائے چیئرمین حصہ لیا۔ بعد ازاں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز دلوانے کے لئے اس وقت کے مئیر شیخ عنصر عزیز کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی ۔ جس میں تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندوں اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور فنڈز کے اجراء کے لیے میری احتجاجی تحریک میں ساتھ دیا ۔ جس پر رکن قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے ارسطو اسد عمر نے میری احتجاجی تحریک میں شامل ہونے پر تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو میرا ساتھ دینے پر ڈرایا ، روکا اور خود بھی کچھ نہ کیا۔ مقامی حکومت کی مدت پوری ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ ملک کی کسی عدالت نے جمعوریت کی نرسری بلدیاتی الیکشن کی بات نہیں کی۔ نہ کسی سیاسی جماعت نے عام آدمی کو بلدیاتی انتخابات کے ذریعے عام آدمی کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات کی۔ 2020 سے 2025 کے دوران الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں دو مرتبہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا۔ بلدیاتی امیدواروں سے انتخاب لڑنے کی دو دفعہ فیس بھی وصول کی۔ اس دوران بلدیاتی امیدواروں نے انتخابی مہم پر بھی پیسہ لگایا ۔ جو الیکشن کمیشن نے واپس کیا نہ انتخابات کروائے ۔الیکشن کمیشن نے اس طرح عام آدمی کو ذلیل و خوار کیا۔ جس میں برسر اقتدار جماعتیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں برابر کی شریک ہیں۔
اسلام آباد کے دیہاتی اور شہری علاقوں , یونین کونسلز میں بے شمار حل طلب مسائل ہیں۔ جس میں تعلیم ، صحت ، روزگار اور کاروبار سمیت مالیاتی امور سر فہرست ہیں۔ مقامی حکومت سنجیدہ طرز عمل اپنائے تو اسلام آباد میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ نوجوان اور خواتین طبقات کے لئے سرکاری نوکریوں سے ہٹ کر متبادل ذرائع آمدن اور کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ جن سے ملک کو دنیا کے جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اور حکومت پاکستان کے خزانے میں پیسہ لایا جا سکتا ہے۔ اس امر کی تکمیل کے لیے محنتی ،ایماندار اور درد دل رکھنے والی سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اسلام اباد کے شہریوں کی خواہش پر ناچیز نے قدم بڑھایا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لئے اسلام آباد آزاد گروپ کے نام سے پیٹ فارم تشکیل دیا ہے ۔ جسکی مرحلہ وار تربیت و تنظیم کے ساتھ سوچ اور نظریہ تشکیل دیا ہے۔ جس میں پہلے مرحلے میں اسلام آباد آزاد گروپ حکومت، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے مطالبے کی رائے عامہ منظم کرے گا ۔ جس کے لئے اسلام اباد شہر اور دیہات سمیت زونل وائز تنظیمیں بناتیں گے۔ تنظیمی عمل کے ساتھ ساتھ پورے اسلام آباد سے بلدیاتی الیکشن لڑنے والے امیدواران کا اعلان بھی کریں گے۔ مختلف یونین کونسلز میں عوامی اجتماعات میں اسلام اباد کے شہریوں کے لئے منشور بھی اجاگر کریں گے ۔اسلام آباد آزاد گروپ کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ گروپ نہیں ۔ یہ اسلام آباد کے لوگوں کو سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت مشترکہ جدو جہد کرنے کے لیے تیار کرے گا۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقے ہیں۔ جن میں سیاسی جماعتوں کے نامزد اور آزاد امیدوار برائے قومی اسمبلی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ لیکن آج اسلام آباد کی عوام ان امیدواروں کو ڈھونڈ رہی ہے۔ لیکن کوئی اجتماعی عوامی مفادات اور مسائل کے حل کے لیے عوام کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آتا ۔ اسلام آباد آزاد گروپ ایسے عاقبت نااندیش مفاد پرست ٹولے کو بھی بے نقاب کرے گا۔ اسلام آباد آزاد گروپ مختلف یونین کونسلز میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کرے گا۔ غریب کی جنگ غریب کے سنگ لڑے گا۔ عوام کا پیسہ عوام پر لگا کر اسلام آباد کے شہری اور دیہاتی علاقوں میں عوام کے دیرینہ مسائل حل کرے گا۔ اسلام آباد آزاد گروپ نئی سوچ اور حقیقت پسندانہ نظریات کے ساتھ ملک کے لیے نئی قابل تقلید رسم کی بنیاد رکھے گا۔ اسلام آباد کے لوگ اسلام آباد آزاد گروپ کی سوچ اور نظریہ سے اتفاق کر رہے ہیں۔15 جولائی کے بعد اسلام آباد کے دیہاتی اور شہری علاقوں یونین کونسلز میں عوامی اجتماعات سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے مطالبے کو سب سے بڑے عوامی مطالبے کے طور پر اجاگر کرنے کے لئے مشترکہ جدو جہد کا آغاز کیا جائے گا ۔ لوگوں کو اپنے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے آمادہ کرےگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین