جس حد تک جانا پڑا، جائیں گے،مائنس نواز ہرگز قبول نہیں، نون لیگ کا لندن اجلاس میں اعلان

 

 

لندن میں مسلم لیگ نون کے اجلاس میں واضح اور دو ٹوک اعلان سامنے آگیا کہ ابھی نہ کبھی، مائنس نواز ہرگز نہیں، کوئی غیر آئینی اقدام بھی قبول نہیں۔

نواز شریف کی زیر قیادت اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت پارٹی قیادت نے فیصلہ سنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ جس حد تک جانا پڑا، جائیں گے، مائنس نواز فارمولے کی مزاحمت کریں گے۔

مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کارکن نواز شریف کے سوا کسی کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کو تیار نہیں، اگلے انتخابات میں نون لیگ کے پوسٹر پر بھی صرف نواز شریف کی تصویر ہوگی ۔

سات سمندر پار لندن میں پاکستان مسلم لیگ نون کی اہم اور بڑی بیٹھک کا نتیجہ ڈھائی گھنٹے بعد سامنے آگیا، پاکستانی وقت کے مطابق شام 4بجے سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت حکمراں جماعت کی ملکی سیاست پر سر جوڑ کر بیٹھی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت پارٹی قیادت نے اپنا فیصلہ سنادیا۔

اجلاس میں صاف اور دو ٹوک انداز میں کہا گیا نہ ابھی،نہ کبھی، مائنس نواز شریف فارمولا کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اندر کی خبر دینے والوں نے بتایا کہ چاہے کسی بھی حد تک جانا پڑے مائنس نواز فارمولے کی مزاحمت کی جائے گی، اسے نہیں مانا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئین پاکستان سے متصادم کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا، مسلم لیگ نون کی قیادت کسی بھی مرحلے پر ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی، اگلے انتخابات کے لیے مسلم لیگ نون کے پوسٹر پر صرف نواز شریف کی تصویر ہوگی۔

اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بتایا کہ مسلم لیگ نون کا کارکن نواز شریف کے علاوہ کسی کو اپنا رہنما قبول کرنے کو تیار نہیں۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کے تابڑ توڑ سوالوں پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے الٹا صحافیوں پر ہی سوال داغ دیا کہ کون نون لیگ کو توڑ رہا ہے، کون شہباز شریف کو صدر بنارہا ہے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر شفاف ٹرائل ہوتا تو پاناما کے بجائے اقامے پر نااہلی نہیں ہوتی،کچھ بھی شفاف نہیں ہورہا ہے، پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مائنس نوازفارمولا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کا آزادانہ اور شفاف ٹرائل کا مطالبہ جائز ہے،نواز شریف پارٹی صدر ہیں، انہی کی مشاورت اور رہنمائی میں پارٹی الیکشن میں جائے گی ۔

نوا ز شریف نے اپنی گفتگو میں یہ بھی بتادیا کہ وہ احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے دو نومبر کو پاکستان جارہے ہیں۔

اجلاس میں مسلم لیگ ن نے انتخابی مہم جلد شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس حوالے سے کہا کہ آگے الیکشن آرہے ہیں، پارٹی کو آگے لے کر چلنا ہے ۔

نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں 3نومبر کو طلب کر رکھا ہے۔