نو سال بعد قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والا ملزم بری

سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمے کی سماعت

عدالت نے نو سال بعد قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم اقبال مسیحی کو بری کردیا

کیس کی سماعت جسٹس آصف سعد کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی

ملزم پر پروین بی بی کو کرسچن کالونی وزیر آباد میں قتل کرنے کا الزام تھا

گواہان کے بیانات میں تضاد ہے، صدیق بلوچ وکیل ملزم

مقدمہ کا چشم دید گواہ کوئی نہیں ہے ، وکیل ملزم

جھوٹی گواہی پر ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی، جسٹس آصف سعید کھوسہ
ملزم پر جرم ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہوتا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ

کیسے ممکن ہے کہ مدعی کو قتل کی تاریخ تو یاد ہے وقت وقوعہ یاد نہیں، صدیق بلوچ

ایف آئی آر تھانہ سٹی وزیر آباد میں چھ ستمبر دو ہزار آٹھ کو درج ہوئی، صدیق بلوچ

میڈیکل رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے اور موت واقع ہونے میں چوبیس گھنٹے کا فرق ہے، صدیق بلوچ
پوسٹمارٹم موت کے چودہ گھنٹے بعد کرایا گیا، صدیق بلوچ
پوسٹمارٹم میں تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی، صدیق بلوچ

عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو بری کردیا
ملزم کو ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی

سپریم کورٹ نے شک فائدہ دیتے ہوئے بری کیا

استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، عدالت