
وزیر اطلاعا ت فواد چودھری نے کہاہے کہ ماضی میں این آر او ہوتے رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ کی وجہ سے لوگوں کاخیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوجائیگا لیکن لوگ اپنی غلط فہمی دور کرلیں ، اس سے قبل اداروں کی سوچ مختلف ہوتی تھی لیکن اس وقت فوج اورحکومت میں بہترین تعلقات موجود ہیں۔
کابینہ جلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہاہے کہ کابینہ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمت کے تعین کا جائزہ لیا گیا، سیمنٹ، ڈیزل، بجلی اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ جبکہ سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، موجودہ حکومت کے پہلے 6 ماہ میں مہنگائی میں صرف ایک اعشاریہ 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ن لیگ کے پہلے 6 ماہ میں مہنگائی میں چھ اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا تھا، غریب ترین لوگوں کے لیے صحت کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے، اگلے مرحلے میں فنکار اور صحافیوں کیلئے بھی ہیلتھ کارڈ جاری کتے جائیں گے .انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے دفتر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال جبکہ نیب کیسز میں ملوث دیگر ملزموں کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جا رہا ہے جس پر وفاقی کابینہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے، چیئر مین پی اے سی شہباز شریف مطلوب افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے دفتر کو استعمال کرنے پر شہباز شریف کو اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے ، ان کا کہنا تھاکہ اجلاس میں منسٹر انکلیوز کے گھر خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مشاہد اللہ منسٹر انکلیو میں گھر پر قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں،اس حوالے سے وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ قانون کے مطابق سلوک کرتے ہوئے اسے لوگوں سے گھروں کوخالی کروایاجائے ۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے بتایا کہ پرتگال اور فرانس کے بعد 8 اور یورپی ممالک پاکستان کے لئے ٹریول ایڈوئراری تبدیل کر رہے ہیں، یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اس سے پاکستان میں ٹورازم کا انقلاب آئے گا، علیم خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے حوالے سے بات نہیں ہوئی، ایسا نہیں لگنا چاہئے کہ تواز ن قائم کیاجارہاہے ، ایک ادھر اور ایک ادھر سے پکڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے اختیارات کم کرنے کے بجائے بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ احتساب پاکستان کیلئے ضروری ہے ۔




