نواز رضا
2025ء کاسال ختم ہونے کو ہے تین روز کے بعد 2026ء کا سورج طلوع ہو جائے گا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری جنگ کا دوسرا سال ہونے کو ہے اگر 16ماہ کی پی ڈی ایم کی حکومت کا تسلسل بھی شامل کیا جائے تو شہباز شریف کی حکومت کے قیام کو ساڑھے تین سال ہونے کو ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت بھی کم و بیش ساڑھے تین سال ہی قائم رہی پھر اسے نہ صرف گھر بھجوا دیا گیا بلکہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے چیدہ چیدہ لیڈروں کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی ۔ پچھلے اڑھائی سال سے عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں پارٹی کی قیادت ان کو رہا کرانے کیلئے دبائو کا ماحول پیدا کرسکی اور نہ ہی عمران خان کی رہائی کیلئے ’’ڈیل ‘‘کی بیل منڈھے چڑھی۔ پچھلے اڑھائی سال میںپی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے ہر حربہ استعمال کر چکی ہے لیکن کو ئی حربہ کارگر ثابت نہ ہوا ۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے ’’عقاب صفت ‘‘ رہنما مسلسل یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ’’ عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا عوام کی آزادی لے کر رہوں گا یا شہادت کا جام پی لوں گا‘‘۔ جس روز وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام دوروزہ قومی مشاورتی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی اسی روز سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد نے اڈیالہ جیل میں عدالت لگائی اور عمران اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ2-میں17،17سال قید کی سزا سنا دی اس پر طرفہ تماشا یہ کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کو عمر رسیدہ ہونے اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کے ناطے سزائوں میں رعایت دی گئی ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو دی جانے والی سزا کے ذریعے پی ٹی آئی کو یہ پیغام دیا گیا ہےکہ ان کیلئے کوئی رعایت نہیںجبکہ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے عمران خان اور انکی اہلیہ کی14سال کی سزا ختم ہو گی تو اس کے بعد 17سال کی سزا شروع ہو گی اس کا مطلب یہ ہے حکومت کا ان دونوں کو عمر بھر جیل میںرکھنے کا پلان ہے۔ایک طرف حکومت کی سختیاں بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف سے عمران خان کی طرف سے بھی شدید ردعمل آرہا ہے۔ قومی کانفرنس کے اعلامیہ میں حکومت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اور مذاکرات کیلئے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرانے ، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو ایجنڈا بنانے کی شرط رکھی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی عمران خان ، بشریٰ بی بی اور دیگر قیدیوں کی رہائی ، عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کا مطالبہ بھی کیا گیا ہےتاہم مذاکرات کو عمران خان ، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی رہنمائوں کی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ قومی مشاورتی کانفرنس کی اہم بات یہ بھی ہے کہ 8فروری2026ء کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہےجبکہ حکومت نے بھی اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے 9مئی2023ء کے واقعات پر معافی مانگنے کی شرط عائد کر دی ہے دلچسپ امر یہ ہے ایک طرف پی ٹی آئی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو حکومت سے مذاکرات کا عندیہ دے رہی ہے تو دوسری طرف عمران خان نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر جو بیان جاری کیا ہے اس میں انہوں نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ترجمان نے بھی واضح کیا ہےکہ احتجاجی تحریک سے متعلق عمران خان کی ہدایت ہی حتمی ہو گی۔اپوزیشن جماعتوں کی طرف احتجاجی تحریک بارے اعلانات نے حکومت کو بھی مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نےوفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت ہے وہاں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ’’بلیک میلنگ نہیں چلے گی مذاکرات کا ایجنڈا جائز مطالبات پر مشتمل ہونا چاہیے‘‘ ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی اس بات پر مصر ہیں کہ ملکی حالات کا تقاضاہے کہ جامع مذاکرات کیلئے میز سجائی جائے دوسری طرف عمران خان نے وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو 8فروری2026ء کو تحریک شروع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہےسہیل آفریدی کیلئے تحریک سے فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا اگرچہ محمود اچکزئی نے ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنےکیلئےنواز شریف اور مولانا فضل الرحمنٰ کو آگے آنے کی اپیل کی ہے،تا حال دونوں رہنمائوں کی طرف سے ان کی اپیل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن عمران خان کی جانب سے تحریک شروع کرنے کے عندیےسے یہ بات واضح ہوگئی ہےکہ انہیں حکومت سے مذاکرات سے کوئی دلچسپی نہیںوہ ہر قیمت پر حکومت گرانا چاہتے ہیں ۔وہ دو سال جس موقف پر قائم تھے آج بھی اسی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ شہباز شریف حکومت کا موقف واضح ہے کہ ’’اظہار ندامت یا معذرت‘‘ کے بغیر پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نےعمران خان کے بیانات کی پروا کئے بغیر وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کرلی اور اپوزیشن رہنمائوں کا ہنگامی اجلاس بلا کر اعلان جاری کر دیا کہ سیاسی جماعتیں آئین کی بحالی ، پارلیمانی اور سویلین بحالی پر اتفاق رائے کریں توہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔’’نئے میثاق ‘‘پر عمران خان کے دستخطوں کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی نے اٹھالی ہے، پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہےکہ حکومت محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے رابطہ کر سکتی ہے پی ٹی آئی کسی صورت بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک نہیں ہو گی ۔پی ٹی آئی کی قیادت مذاکرات کے ایشو پر نہ صرف کنفیوژن کا شکار ہے بلکہ بڑی حد تک تقسیم نظر آتی ہے۔ اس صورت حال میں یہی نظر آتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 8فروری2026 تک ’’مذاکرات مذاکرات‘‘ کا کھیل ہی چلتا رہے گا ۔اگرچہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی طرف سےنئے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے پر زور دیا جا رہاہے اور حکومت کی مذاکرات کی تازہ ترین پیشکش کوسنجیدہ لے رہی ہے لیکن مذاکرات کی میز سجتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ وقت کا ضیاع ہے یا محض مذاکرات کے نام پر ایک دوسرے کو دھوکا دیا جا رہاہے ۔
بشکریہ:جنگ




