پاکستان کا انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ


اسلام آباد÷جنیوانیوزرہورٹر)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں، وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی سیکرٹری نے کہا، “انسانی حقوق کسی چند لوگوں کے لیے یا صرف آسان حالات میں استعمال کی جانے والی سہولت نہیں، بلکہ انہیں غیر یقینی صورتحال، تنازعات اور پیچیدہ عالمی چیلنجز کے دوران بھی محفوظ اور یقینی بنایا جانا چاہیے۔”انہوں نے عالمی اور علاقائی انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کی طرف توجہ دلائی اور افغانستان، غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر، اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وفاقی سیکرٹری نے زور دیا کہ اسلام کو خواتین کے حقوق کے غیر قانونی استحصال کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی پر سخت تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا، “حقِ خودارادیت فروخت کے لیے نہیں ہے۔” غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے ناقابلِ تنسیخ حقوق سے محروم ہیں، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہیں۔
فلسطین میں جاری انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ وہاں جاری مظالم اور عدم احتساب، استعماری پالیسیوں اور غیر قانونی قبضے کے فروغ کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔انہوں نے بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت، خصوصاً اسلاموفوبیا کی سیاسی و عوامی بیانیے میں استعمال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نفرت، امتیاز اور معاشرتی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق مکالمے، کثیرالجہتی تعاون، اور انسانی حقوق کے عالمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔