توشہ خانہ کے جو تحائف عمران خان نے بیچے اس کا خریدار سامنے آگیا

توشہ خانہ کے تحفے دبئی کی کاروباری شخصیت عمر فاروق نے 20 لاکھ ڈالرز میں خریدے تھے ۔


اسلام آباد:شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرا میں بتایا کہ عمران خان کو سعودی ولی عہد سے جو قیمتی گھڑی ، انگوٹھی اور دیگر تحفے بطور وزیراعظم 2019 میں ملے تھے وہ انہوں نے فروخت کردیے تھے۔
تحفے خریدنے والی دبئی کی معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق نے جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں وہ تحائف دکھا دیے۔
عمرفاروق نے شاہزیب خانزادہ کو بتایا کہ 2019 میں عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے رابطہ کیا، جس کے بعد عمران خان کی اہلیہ، بشری بی بی کی قریبی دوست فرح خان تحفے لے کر دبئی ان کے دفتر آئیں، ان کی ڈیمانڈ پچاس لاکھ ڈالرز تھی، تاہم انہوں نے سارے تحفے 20 لاکھ ڈالرز میں خرید لیے اور فرح گوگی کو رقم کیش میں ادا کی۔عمر فاروق نے بتایا کہ کہ ان تحفوں کی اصل مالیت ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرز یعنی 2019 کے ڈالر ریٹس کے حساب سے ایک ارب 70 کروڑ روپے تھی۔
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نا اہلی
یاد رہے کہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو کرپٹ پریکٹس کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں 5 سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا جس کے خلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع بھی کر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 63 ون پی اور الیکشن ایکٹ کی سیکشن 137، 173 کے تحت نااہل قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اب رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے، عمران خان نے تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے، ان کا پیش کردہ بینک ریکارڈ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا، عمران خان نے جواب میں جو موقف اپنایا وہ مبہم تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جھوٹا ڈکلیریشن اور غلط بیان دینے پر عمران خان الیکشن ایکٹ کی سیکشن 167 اور 173 کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں، وہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت قابل سزا ہیں۔فیصلے میں الیکشن کمیشن آفس کو سیکشن 190 ٹو کے تحت عمران خان کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔
دوسری طرف عمران خان نے گھڑی کے مبینہ خریدار اور جیو نیوز کے خلاف لندن اور یو اے ای میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان کر دیا ہے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کردیا جس نے انہیں صادق اور امین قراردیا تھا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے جیو نیوز، اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور عالمی سطح پر مطلوب عمر فاروق ظہور کے خلاف برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تحفے میں ملی گھڑی اور اس کی فروخت سے متعلق جیو نیوز کے پروگرام پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہینڈلرز کی حمایت سے جیو اور خانزادہ نے بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو تحفے میں دی گئی گھڑی عمر فاروق ظہور نامی شخص کو نہیں بلکہ پاکستانی مارکیٹ کے ایک ڈیلر کو پانچ کروڑ ستر لاکھ روپے میں فروخت کی تھی۔فواد چوہدری نے عمر فاروق ظہور کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی قریبی ساتھی فرح گجر کے ذریعے یہ گھڑی انھیں فروخت کی گئی تھی۔ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ گھڑی پانچ کروڑ ستر لاکھ میں پاکستانی مارکیٹ میں فروخت کی گئی۔ اس پر ٹیکس ادا کیا گیا اور گوشواروں میں اسے ظاہر کیا گیا۔
یاد رہے کہ جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے عمر فاروق ظہور نے مذکورہ تحفے کا سیٹ دکھایا تھا جس میں خانہ کعبہ کی تصویر والی گھڑی موجود ہے۔ اس گھڑی میں ہیرے جڑے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ اس گفٹ سیٹ میں ایک پین، کف لنکس اور انگوٹھی بھی شامل ہیں۔
تحریک انصاف نے سعودی ولی عہد سے ملنے والی گھڑی کے بارے میں کیا کہا؟
یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے ملنے والے تحفے کی فروخت کے بارے میں اس قدر کھل کر بات کی ہے۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے دعوی کیا کہ اس گھڑی کی قیمت کا تعین کابینہ ڈویژن نے 10 کروڑ روپے کے قریب کیا اور رولز کے تحت قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے یہ گھڑی توشہ خانہ سے عمران خان کی ملکیت میں چلی گئی۔
خان صاحب نے اس گھڑی کو مارکیٹ میں پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔انہوں نے کہا عمر ظہور نام کے کسی شخص کو یہ گھڑی نہیں بیچی گئی۔ نہ ہی یہ گھڑی بیچنے کے لیے فرح گجر کے حوالے کی گئی۔انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے عمر ظہور کے خلاف دبئی میں اور جنگ گروپ کے خلاف لندن میں قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
رہنما پی ٹی آئی اور سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا دبئی کی ایک چھوٹی سی دکان سے گھڑی کی قیمت کا تعین 12 ملین ڈالر کروایا گیا اور وہ بھی جیو نیوز پر نشر ہونے والے شو سے کچھ دیر پہلے۔ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں گراف کی کئی دکانیں ہیں۔ آئیں وہاں بیٹھ کر قیمت کا تعین کر لیتے ہیں۔زلفی بخاری نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق جس ڈیلر کو یہ گھڑی پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں فروخت کی گئی اس نے شاید ان حضرات (عمر فاروق ظہور) کو اسے چھ کروڑ 10 لاکھ میں فروخت کیا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنمائوں نے اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا عمر فاروق ظہور کے پاس موجود گھڑی وہی تحفہ ہے جو عمران خان کو سعوی ولی عہد سے
ملا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس ڈیلر کو عمران خان نے گھڑی فروخت کی اس کا نام میں نہیں لینا چاہتا کیونکہ وہ ڈر کے مارے ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ جب ہماری حکومت گئی تو ایف آئی اے نے اس ڈیلر کو بھی اٹھا لیا تھا۔
زلفی بخاری نے بتایا کہ ان صاحب نے بغیر کسی رسید کے دو ملین ڈالر دے دیے اور ان کے پاس کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ ان کی فرح سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں اس ڈیلر کا نام اس لیے نہیں لے رہا کہ یہ اس کے ساتھ وہ نہ ہو جو ارشد شریف کے ساتھ ہوا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماں نے کہا کہ اس گھڑی اور سیٹ کی اصل قیمت کا تعین قوم کے سامنے رکھا جائے گا اور اس ڈیلر سے بھی پتا چل جائے گا کہ گھڑی آگے کس کو فروخت کی گئی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ آرمی چیف اور وزریراعظم سمیت حکومتی عہدیداران کو جو تحفے گذشتہ 30 سال میں ملے ہیں اس کی توشہ خانہ کی فہرست منظر عام پر لائی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ عمر ظہور کے خلاف ناروے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مالی جرائم اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے ان پر بچوں کی کسٹڈی کا کیس کر رکھا ہے۔
فرح کے ذریعے گھڑی مجھے فروخت کی گئی: عمر فاروق ظہور
جیو نیوز پر منگل کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں دبئی کی کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے دعوی کیا تھا کہ عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے ملنے والی جو گھڑی فروخت کی گئی، وہ انھوں نے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی قریبی دوست فرح کے ذریعے خریدی۔
عمر فاروق نے اینکر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دعوی کیا کہ فرح خان یہ گھڑی لے کر ان کے پاس آئیں، جس کی تصدیق انھوں نے گھڑی بنانے والی کمپنی سے کروانے کے بعد اس وقت کے حساب سے دو ملین ڈالر کی رقم ادا کی۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کے نشر ہونے کے بعد فرح خان کے شوہر اس مبینہ ملاقات کی تردید کر چکے ہیں۔عمر فاروق کے مطابق یہ گھڑی سعودی ولی عہد نے عمران خان کو بطور تحفہ دی تھی۔
عمر فاروق ظہور نے دعوی کیا کہ فرح کو اس گفٹ سیٹ کے بدلے چار، پانچ ملین ڈالر کی امید تھی۔۔۔ مگر میں نے انھیں دو ملین ڈالر دیے تھے۔ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ انھوں نے براہ راست یہ گھڑی خریدی اور سب سے بڑا ثبوت ان کے پاس یہی ہے کہ یہ گھڑی ان کے پاس پڑی ہے۔
ان کے مطابق یہ گفٹ سیٹ 10 کروڑ کا ظاہر کر کے 28 کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا۔ میرے لیے یہ گھڑی خریدنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد گھڑی ہے جو خانہ کعبہ ایڈیشن ہے۔ گراف دنیا کے ٹاپ جیولرز میں سے ہے۔ ان کی کعبہ ایڈیشن گھڑی ایسی چیز نہیں جسے آپ دوبارہ دیکھ سکیں گے۔
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ دنیا میں ایک ہی پیس ہے جس پر خانہ کعبہ بنا ہے۔ گراف والے کہہ رہے ہیں کہ یہ گھڑی ایک ارب سے اوپر کی ہے۔ اس پر جڑے ہیروں کی باقاعدہ خصوصیات دی گئی ہیں۔
جیو کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے کہا ہے کہ ان کی خبر حقائق پر مبنی ہے اور وہ ہر فورم پر اپنی خبر کا دفاع کریں گے۔
مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں مت کرو رسیدیں نکالو،انہوں نے کہا دوسروں کو چور کہنے والا خود سب سے بڑا چور نکلا۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ عمران عدالت جائیں اعلان نہ کریں۔