جس راہ پر چلتے ہوئے تو ہانپ رہا ہے اس راہ پر صدیوں تلک میں دوڑ چکا

امریکہ کا تکبر اور اسرائیل کی کمینگی ختم ہونے کے قریب فتح ایران کی ہوگی
نہر سویز نے برطانیہ کو ڈبویا تھا آبنائے ہر مز امریکہ کی جان لے گا
بظاہر کمزور ایران کا جذبہ اتنا عظیم ہے کہ نام نہاد غنڈہ ممالک اس کی زد میں آکر تاراج ہونے لگے ہیں
جنگ میں، درد برداشت کرنے کی صلاحیت دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی صلاحیت سے زیادہ اہم ہے
ایران میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ اس لئے جنگ طویل ہورہی ہے
ایران ایمان کی خوشبو سے سرفرازیہ انتقام کے ساتھ ساتھ عزت کی جنگ لڑ رہا ہے

امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ ایسا لگتا ہے کہ آخری مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے اور انشاء اللہ ایران بالآخر فتح یاب ہوگا۔ امریکہ کا تکبر اور اسرائیل کی کمینگی ختم ہونے کو ہے۔ یقینا ًدنیا ایک نیا موڑ دیکھے گی۔ جس طرح برطانیہ کو نہر سوئیز کی وجہ سے تباہی کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح آبنائے ہرمز امریکہ کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ پروفیسر رے ڈالیو، جو 500 سال سے زیادہ سلطنتوں کی تاریخ کے ایک محقق اور اربوں ڈالر کے منتظم ہیں۔
انہوں نے ایک مضمون شائع کیا جس میں پروفیسر رے ڈالیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول کھونا امریکہ کے لیے ایسا ہی ہو سکتا ہے، جیسا کہ برطانیہ نے 1956 میں نہر سوئیز کا کنٹرول کھو دیا تھا۔ اس سے پہلے کہ آپ اس جملے کو سمجھیں، ہمیں سنہ 1956 کی بات کرنی چاہیے کیونکہ جو کچھ 1956 میں ہوا وہ آج دہرایا جا رہا ہے۔ 200 سال تک برطانیہ دنیا کا سپر پاور رہا۔ برطانوی پاؤنڈ دنیا کی کرنسی تھی اور اس کا بحریہ سمندروں کو کنٹرول کرتا تھا۔ اس کی طاقت کا سب سے اہم نکتہ سوئز نہرتھی۔
عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی نہر سے گزرتا تھا جو نہر کے ساتھ عالمی تجارت کو بھی کنٹرول کرتا تھا۔ 1956 میں مصر نے نہر کو قومیا لیا۔ کہنے لگے: اب یہ ہمارا ہے۔ برطانیہ نے دھمکی دی۔ نہر کھولو ورنہ ہم لے لیں گے ۔مصر نے نہر نہیں کھولی۔ برطانیہ نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیالیکن جو ہوا، ہو گیا۔ امریکہ نے کہا’’ بس۔‘‘سوویت نے کہا’’بس۔‘‘ اقوام متحدہ نے کہا’’بس۔‘‘ ان ہی وجوہات کی بنا پر برطانیہ پسپائی کے لئے مجبور ہو گیا۔
اس دن، دنیا نے کچھ دیکھا۔برطانیہ اب سپر پاور نہیں رہا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟برطانوی پاؤنڈ گر گیا۔اتحادیوں نے خود کو دور کیا۔ کالونیوں نے آزادی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ کیپٹل برطانیہ سے بھاگ گیا۔ بیس سالوں میں برطانیہ ایک عام ملک بن گیا جس کی دنیا میں کوئی قدر نہ رہی۔ صرف تاریخ کے سوا۔ ایک نہر کی وجہ سے 200 سال تک چلنے والی سلطنت ختم ہو گئی۔ یہ صرف ایک نہر نہیں تھی۔
یہ ایک خیال کی وجہ سے ختم ہوئی۔یہ ملک اب مضبوط نہیں رہا۔ جس لمحے اس تصور نے زور پکڑا، پیسہ بھاگ گیا، اتحادی پیچھے ہٹ گئے اور نظام منہدم ہوگیا۔ ڈالیو کہتے ہیں کہ اب امریکہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اتنا اہم کیوں ہے؟ عالمی تیل کی سپلائی کا 20فیصد حصہ اس آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ سعودی‘ متحدہ عرب امارات ‘ عراق اورکویت اسی راہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت راستہ بند ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ عالمی معیشت تھم جائے گی۔
خلیجی ممالک ایکسپورٹ نہیں کر سکیں گے۔ یورپ کو توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایشیائی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔ایک شاہراہ پر صرف ایک سرنگ ہے۔ تمام ٹرک اس سے گزرتے ہیں ۔خوراک، ایندھن، خام مال،سب کچھ۔ کوئی سرنگ کے دروازے پر بیٹھ کر کہتا ہے۔’’میری اجازت کے بغیر کوئی نہیں گزرے گا۔‘‘ اب ایران یہی کر رہا ہے۔ ڈالیو کہتے ہیںکہ اگر امریکہ اس سرنگ کو نہیں کھول سکتا تو سب کچھ بدل جائے گا۔ ڈالیو نے 500 سال کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ اس نے ہر عظیم سلطنت کے عروج و زوال کا جائزہ لیا۔ اسے ایک نمونہ ملا۔ پیٹرن یہ ہے۔
چیزیں ہمیشہ اسی طرح ختم ہوتی ہیں۔ ایک سپر پاور عالمی پیسے کو کنٹرول کرتی ہے، سمندری راستوں کو کنٹرول کرتی ہے اور ہر کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے۔پھر ایک چھوٹی طاقت اسے ایک اہم تجارتی راستے پر چیلنج کرتی ہے۔ ’’سمندر کھولو ورنہ میں حملہ کر دوں گا۔‘‘ ساری دنیا دیکھتی ہے۔اگر سپر پاور راستہ کھولتا ہے تو یقینا اس کی طاقت کو تقویت ملتی ہے، اعتماد جاری رہتا ہے، پیسہ چلتا ہے اور نظام جاری رہتا ہے۔
اگر یہ ناکام ہوجاتا ہے ۔سب کچھ الٹا ہو جاتا ہے۔اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔اتحادی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔پیسہ بھاگ جاتا ہے۔قرضوں کا بحران شروع ہوجاتا ہے۔ سلطنت ٹوٹ جاتی ہے۔پرتگال ‘نیدرلینڈ اور برطانیہ کا خاتمہ بھی اسی طرح ہواتھا۔ Dalio کہتے ہیں’’جب بڑی طاقتیں قرض میں ڈوب جاتی ہیں اور فوجی و مالیاتی کنٹرول میں کمی کا مظاہرہ کرتی ہیں، تو دیکھیں کہ وہ کس طرح اتحادیوں اور قرض دہندگان کا اعتماد کھو دیتے ہیں، ریزرو کرنسی کی حیثیت بھی کھو جاتی ہے، اور ان کی کرنسی کمزور پڑ جاتی ہے۔ خاص طور پر سونے کے مقابلے۔
اب امریکہ کو دیکھ لیں۔امریکہ کی صورتحال قرض: $38 ٹریلین۔ سود کی ادائیگی: سالانہ $1 ٹریلین سے زیادہ ۔ ٹیکس کی آمدنی کا ایک چوتھائی سود پر جاتا ہے۔یہ ویتنام میں ہار گیا۔ افغانستان سے شکست فاش ہوئی ۔ افراتفری کو پیچھے چھوڑ کر عراق میں 20سال گزارے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ امریکہ اب مضبوط نہیں رہا۔ اب اس کا مقابلہ ایران سے ہے۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟ ’’اگر وہ بارودی سرنگیں بچھائیں گئیں اور انہیں فوری طور پر نہ ہٹایا گیا تو فوجی نتائج بے مثال ہوں گے۔‘‘ دلیو کیا کہتا ہے؟’’میں اکثر دوسرے ممالک کے سینئر سیاستدانوں کو نجی طور پر یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں’ٹرمپ روانی سے بولتے ہیں، لیکن جب حالات مشکل ہو جائیں تو کیا وہ لڑ کر جیت سکتے ہیں؟‘ جنگ میں، درد کو برداشت کرنے کی آپ کی صلاحیت آپ کی تکلیف پہنچانے کی صلاحیت سے زیادہ اہم ہے۔ ایرانی کیا کر رہے ہیں؟ وہ جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ اسے بتدریج بڑھا رہے ہیں کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ امریکی عوام اور قیادت میں طویل درد اور جنگ کے لیے محدود رواداری ہے۔ایران چاہتا ہے کہ جنگ کو کافی طویل اور تکلیف دہ بنائے۔ امریکہ پیچھے ہٹ جائے گا۔ویتنام اور افغانستان میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ ایران کے لیے یہ جنگ ‘ وجودی جنگ ہے اور وہ ایمان کی خوشبو سے سرفراز ہے۔ یہ انتقام کے ساتھ ساتھ عزت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے زیادہ اہم چیز کے لیے لڑ رہے ہیں۔ امریکیوں کو کیا فکر ہے؟ایندھن کی قیمتیں‘وسط مدتی انتخابات۔ یہ عدم توازن ڈالیو کو خوفزدہ کرتا ہے۔
کیا ڈیل ممکن ہے؟ ڈالیو کا جواب واضح ہے: نہیں۔ ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ کسی معاہدے تک نہ پہنچنے سے یہ جنگ حل نہیں ہوگی۔‘‘ آگے کیا آتا ہے؟ چاہے ہرمز ایران کے کنٹرول میں رہے یا اس سے چھین لیا جائے۔ آنے والا دور تصادم کا بدترین دور ہو گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ سے تعلق رکھنے والے یا اس کے ساتھ تعاون کرنے والے خطے میں تیل، اقتصادی اور توانائی کی تمام سہولیات کو فوری طور پر تباہ کر کے راکھ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔‘‘ یہ آخری جنگ قریب آ رہی ہے۔ ڈالیو کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ تاریخ کو نئی شکل دے گا۔
یہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا۔ تجارت کے بہاؤ میں تبدیلی آئے گی۔ سرمائے کا بہاؤ بدل جائے گا۔ چین، روس، شمالی کوریا، یورپ، بھارت اور جاپان سبھی متاثر ہوں گے۔ اگر امریکہ جیت جاتا ہے توڈالر پر اعتماد بڑھے گا۔بانڈز کی مانگ بڑھے گی۔اتحادی قریب سے صف بندی کریں گے۔ٹرمپ کی اتھارٹی مضبوط ہوگی۔ امریکی تسلط برقرار رہے گا۔اگر امریکہ ہار جاتا ہے توڈالر گرے گا۔ بانڈز فروخت کیے جائیں گے۔
سونا ڈرامائی طور پر بڑھے گا۔ اتحادی کمزور ہو جائیں گے۔ برکس مضبوط ہو گا۔ چین کی ترقی میں تیزی آئے گی۔ 500 سال کی تاریخ سے ڈالیو کا سبق یہ ہے کہ پیسہ اور طاقت ہمیشہ جیتنے والے کی طرف جاتی ہے ۔
اور ہارنے والے سے لوگ دو ربھاگتے ہیں۔ بہرحال ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بھلے ہی وہ بڑی طاقتوں کے معاملہ میں کمزور دکھائی دیتا ہے لیکن اس کا جذبہ اتنا عظیم ہے کہ نام نہاد غنڈہ ممالک اس کی زد میں آکر تباہ و تاراج ہونے لگے ہیں۔ ایران تو ا ب امریکہ اور اسرائیل سے یہ کہہ رہا ہے کہ
جس راہ پر چلتے ہوئے تو ہانپ رہا ہے
اس راہ پر صدیوں تلک میں دوڑ چکا
بشکریہ:منصف